مقامی خبریں

مظفرپور کی شاہی لیچی کا ذائقہ اب ایوانِ صدر اور وزیر اعظم ہاؤس میں، خاص کھیپ دہلی روانہ

مظفرپور کی پہچان: شاہی لیچی کا سفر دہلی تک

بہار کے مظفرپور کی عالمی شہرت یافتہ ‘شاہی لیچی’ ایک بار پھر ملک کے اعلیٰ ترین عہدیداران کے دسترخوان کی زینت بننے کے لیے تیار ہے۔ اپنی مٹھاس، رسیلے پن اور منفرد ذائقے کے لیے مشہور یہ پھل 30 مئی کو خصوصی ریفریجریٹڈ وین کے ذریعے دہلی روانہ کر دیا گیا ہے۔ یہ خاص کھیپ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو، وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے لیے بھیجی گئی ہے۔

سائنسی نگرانی میں تیار کردہ خاص پھل

اس بار تقریباً 2000 کارٹنوں میں پیک کی گئی لیچی کو انتہائی احتیاط کے ساتھ روانہ کیا گیا ہے۔ اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ دہلی پہنچنے تک پھل کی تازگی اور معیار برقرار رہے۔ اس خاص کھیپ کی تیاری کا عمل سال بھر جاری رہتا ہے، جس میں لیچی ریسرچ سینٹر کے ماہرینِ زراعت کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ کھیتوں کی تیاری سے لے کر کھاد اور پانی کی مقدار تک، ہر مرحلہ سائنسی اصولوں کے تحت طے کیا جاتا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کی سخت نگرانی

لیچی کے موسم کے آغاز کے ساتھ ہی ضلعی انتظامیہ کی ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی جاتی ہے جو منتخب باغات کی نگرانی کرتی ہے۔ اس ٹیم کا کام یہ یقینی بنانا ہے کہ لیچی مکمل طور پر پک چکی ہو اور اس میں مٹھاس کا تناسب (شوگر لیول) معیاری ہو۔ اس کے بعد ہی پھل کی چنائی کی جاتی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی سے کاروباری آلوک کیڈیا کے باغات سے یہ خاص لیچی دہلی بھیجی جا رہی ہے، جو اپنے معیار کے لیے معروف ہیں۔

پیکنگ اور معیار کا خاص خیال

پیکنگ کے عمل میں 50 سے زائد ہنرمند کاریگر مصروف عمل ہیں۔ ہر کارٹن کو ایک تحفے کی طرح ڈیزائن کیا گیا ہے جس پر ‘سہ پریم بھینٹ’ درج ہے۔ اس بار کی پیکنگ میں اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ پھل محفوظ رہے اور اس کی کشش برقرار رہے۔ جی آئی (GI) ٹیگ ملنے کے بعد مظفرپور کی شاہی لیچی کی مانگ نہ صرف ملک بلکہ بیرونِ ممالک میں بھی بڑھ گئی ہے۔ یہ کامیابی مظفرپور کے کسانوں اور یہاں کے عوام کے لیے فخر کا باعث ہے، جو اپنی محنت سے اس پھل کو عالمی سطح پر ایک الگ شناخت دلا چکے ہیں۔ توقع ہے کہ یہ کھیپ یکم جون تک دہلی پہنچ جائے گی۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button