مظفرپور کا کوّدئی قتل عام: 43 سال بعد سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ، مجرموں کی سزا برقرار
انصاف کی طویل لڑائی کا انجام
مظفرپور کے گائے گھاٹ علاقے میں پیش آنے والے ہولناک کوّدئی قتل عام کے معاملے میں سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے مجرموں کی سزا کو برقرار رکھا ہے۔ 1983 میں پیش آئے اس دلخراش واقعے نے پورے بہار کو ہلا کر رکھ دیا تھا، جس میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔
واقعہ کیا تھا؟
مارچ 1983 میں ہولی کے تہوار کے دوران، چندر شیکھر چودھری کے گھر پر تقریباً 58 افراد کی ایک مشتعل ہجوم نے حملہ کر دیا تھا۔ حملہ آوروں نے پہلے گھر کو آگ کے حوالے کیا اور پھر جان بچا کر بھاگنے والے افراد کا پیچھا کر کے انہیں قتل کر دیا۔ اس واقعے میں نہ صرف پانچ لوگوں کی جان گئی بلکہ کئی دیگر افراد شدید زخمی بھی ہوئے تھے۔
عدالت کا سخت موقف
سپریم کورٹ کے جسٹس سنجے کرول اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ کی بنچ نے اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ اس جرم کی نوعیت اتنی سنگین اور ظالمانہ ہے کہ یہ عدالتی ضمیر کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسے گھنونی جرم میں کسی بھی قسم کی نرمی یا ہمدردی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
عدالت نے پٹنہ ہائی کورٹ کے 2017 کے اس فیصلے کو درست قرار دیا جس میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے مجرموں کو دی گئی عمر قید کی سزا کو برقرار رکھا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ریکارڈ پر موجود شواہد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تمام ملزمان ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت، مہلک ہتھیاروں سے لیس ہو کر ایک غیر قانونی مجمع کا حصہ بنے تھے اور ان کا واحد مقصد قتل و غارت گری تھا۔
مجرموں کو فوری سرنڈر کا حکم
سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں ان تمام مجرموں کو فوری طور پر ٹرائل کورٹ میں سرنڈر کرنے کی ہدایت دی ہے جو اب تک سزا سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ عدالت نے واضح کیا کہ انہیں اپنی بقیہ سزا جیل میں کاٹنی ہوگی۔ یہ فیصلہ دہائیوں پر محیط انصاف کی تلاش میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا ہے، جس سے متاثرہ خاندان کو کچھ حد تک سکون ملا ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
