مظفرپور: ٹرینوں کے روٹ میں تبدیلی سے مسافروں کی مشکلات میں اضافہ
مسافروں کی پریشانی برقرار
گورکھپور میں جاری نان انٹر لاکنگ (NI) کام کے اثرات اب مظفرپور ریلوے اسٹیشن سے سفر کرنے والے ہزاروں مسافروں پر نمایاں طور پر نظر آ رہے ہیں۔ ٹرینوں کے روٹ میں اچانک تبدیلی اور تاخیر کی وجہ سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
پوربندر ایکسپریس کا متبادل راستہ
مظفرپور سے پوربندر جانے والی 19270 ایکسپریس ٹرین کو اپنے معمول کے راستے کے بجائے تبدیل شدہ روٹ سے چلایا جا رہا ہے۔ یہ ٹرین موتیہاری کے بجائے حاجیپور کے راستے روانہ کی گئی ہے۔ اس تبدیلی کی وجہ سے مہسی، چکیا، موتیہاری، سگولی اور بیتیا سمیت کل آٹھ اسٹیشنوں پر اس ٹرین کا اسٹاپ منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ریلوے حکام کے مطابق، پیر کے روز بھی یہ ٹرین اپنے طے شدہ روٹ کے بجائے حاجیپور، چھپرا، سیوان اور بھٹنی جنکشن سے ہوتے ہوئے گورکھپور پہنچے گی۔
راپتی گنگا ایکسپریس کی تاخیر
صرف پوربندر ایکسپریس ہی نہیں، بلکہ دہرادون سے مظفرپور آنے والی 15002 راپتی گنگا ایکسپریس کے مسافر بھی سخت پریشانی میں مبتلا ہیں۔ یہ ٹرین جو اتوار کی شام ساڑھے چار بجے پہنچنی تھی، وہ رات نو بجے تک لکھنؤ میں ہی موجود تھی۔ اس تاخیر کے باعث پیر کی صبح اس کے مظفرپور پہنچنے کا امکان ہے، جس کی وجہ سے واپسی میں بھی ٹرین کے تاخیر سے چلنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پیر کو مظفرپور سے روانہ ہونے والی راپتی گنگا ایکسپریس اپنے پرانے روٹ یعنی موتیہاری سے ہی چلے گی۔
دیگر ٹرینوں پر اثرات
اس افراتفری کے عالم میں دیگر ٹرینوں کی آمد و رفت بھی متاثر ہوئی ہے۔ مظفرپور سے پاٹلی پترا جانے والی 63267 پیسنجر ٹرین اپنے مقررہ وقت سے دو گھنٹے آٹھ منٹ کی تاخیر سے روانہ ہوئی، جس سے روزانہ سفر کرنے والے مسافروں کو کافی دقت ہوئی۔ ریلوے انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سفر پر نکلنے سے پہلے اپنی ٹرین کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ رہیں۔
مسافروں کی سہولت کے لیے ریلوے کی جانب سے مسلسل اپ ڈیٹس جاری کی جا رہی ہیں، تاہم روٹ کی تبدیلی نے مقامی مسافروں کے لیے سفر کو طویل اور تھکا دینے والا بنا دیا ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
