مظفرپور میں پہلی موسلادھار بارش: گرمی سے تو راحت ملی، مگر بجلی کا نظام درہم برہم
شہر میں بجلی کا بحران
مظفرپور میں منگل کی صبح ہونے والی موسلادھار بارش نے جہاں ایک طرف شہریوں کو شدید گرمی اور حبس سے نجات دلائی، وہیں دوسری طرف شہر کے بجلی کے نظام کی قلعی بھی کھول کر رکھ دی۔ صبح سویرے تیز ہواؤں کے ساتھ شروع ہونے والی بارش نے شہر کے بیشتر علاقوں میں بجلی کی فراہمی کو بری طرح متاثر کیا، جس سے معمولات زندگی ٹھپ ہو کر رہ گئے۔
درخت گرنے سے تاروں کو نقصان
محکمہ بجلی کے مطابق، صبح چار بجے کے قریب شروع ہونے والی تیز ہواؤں کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں درختوں کی شاخیں بجلی کے تاروں پر جا گریں۔ اس حادثے کی وجہ سے کئی مقامات پر تار ٹوٹ گئے اور حفاظتی اقدامات کے تحت فیڈرز کو ٹرپ کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ، کچھ اہم سب اسٹیشنوں میں تکنیکی خرابی پیدا ہونے سے شہر کے بڑے حصے میں اندھیرا چھا گیا۔
پانی کی قلت سے شہری پریشان
بجلی کی طویل بندش کا سب سے زیادہ اثر صبح کے وقت دیکھنے میں آیا۔ گھروں میں پانی کی موٹریں نہ چلنے کی وجہ سے شہریوں کو پینے اور روزمرہ کے استعمال کے پانی کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسکول جانے والے بچوں اور دفاتر جانے والے افراد کو خاص طور پر پریشانی ہوئی۔ صبح سے ہی بجلی کے دفاتر میں شکایات کا انبار لگ گیا، جس کے بعد محکمہ حرکت میں آیا۔
بحالی کا کام جاری
محکمہ بجلی کے ایگزیکٹو انجینئر نے بتایا کہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ گرنے والے درختوں کو ہٹانے اور بجلی کے تاروں کی مرمت کا کام جنگی بنیادوں پر جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دوپہر تک شہر کے متاثرہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی مکمل طور پر بحال کر دی جائے گی۔ انتظامیہ نے شہریوں سے صبر کی اپیل کی ہے اور یقین دلایا ہے کہ تکنیکی خرابیوں کو جلد دور کر لیا جائے گا۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
