مظفرپور میں شراب مافیا کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب: لائن ہوٹل کی آڑ میں چل رہی تھی نقلی شراب کی فیکٹری
مظفرپور میں غیر قانونی شراب کا دھندہ: تین گرفتار
مظفرپور کے بوچاہاں تھانہ علاقہ میں محکمہ ایکسائز کی ٹیم نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے نقلی شراب بنانے والی ایک خفیہ فیکٹری کا پردہ فاش کیا ہے۔ کنہارا علاقے میں واقع ایک لائن ہوٹل کے احاطے میں قائم اس فیکٹری سے بھاری مقدار میں غیر قانونی شراب اور اسے تیار کرنے کا سامان برآمد ہوا ہے۔
کارروائی کی تفصیلات
محکمہ ایکسائز کے انسپکٹر دیپک کمار سنگھ کی قیادت میں کی گئی اس چھاپہ ماری کے دوران موقع سے تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں لائن ہوٹل کے مالک کا بیٹا سونو کمار بھی شامل ہے۔ دیگر دو ملزمان کی شناخت دلیپ کمار پانڈے اور رندھیر کمار کے طور پر ہوئی ہے۔ اس کارروائی کے دوران ہوٹل کا مالک رنجیت رائے موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا، جس کی تلاش جاری ہے۔
کیا کچھ برآمد ہوا؟
تلاشی کے دوران ٹیم کو موقع سے درج ذیل اشیاء ملی ہیں:
- 171 لیٹر سے زائد تیار شدہ نقلی شراب۔
- مختلف مشہور برانڈز کے 500 سے زائد جعلی ریپر اور ڈھکن۔
- 1000 خالی بوتلیں جنہیں شراب بھرنے کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔
- 20 لیٹر اسپرٹ اور کیرامیل (رنگ لانے والا کیمیکل)۔
- ایک اسکوٹی جس میں بھی شراب چھپا کر رکھی گئی تھی۔
نیٹ ورک کا انکشاف
ابتدائی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ یہ گروہ ہوٹل میں آنے والے گاہکوں کو نقلی شراب فروخت کرتا تھا اور ساتھ ہی اسے آس پاس کے علاقوں میں بھی سپلائی کیا جاتا تھا۔ ملزمان میک ڈاول نمبر ون، رائل اسٹیگ اور رائل چیلنج جیسے بڑے برانڈز کے نام پر نقلی شراب تیار کر رہے تھے۔ محکمہ ایکسائز اب اس بات کی تفتیش کر رہا ہے کہ اس نیٹ ورک کی جڑیں کہاں تک پھیلی ہوئی ہیں اور کن کن مقامات پر یہ زہریلی شراب بھیجی جا رہی تھی۔
حکام کا کہنا ہے کہ علاقے کے دیگر لائن ہوٹلوں کی بھی نگرانی بڑھا دی گئی ہے تاکہ اس طرح کے غیر قانونی کاموں کو مکمل طور پر روکا جا سکے۔ گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں جیل بھیج دیا گیا ہے اور فرار ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔