مظفرپور میں آبادی کے اعداد و شمار نے بڑھائی انتظامیہ کی تشویش، میٹرو کا خواب کھٹائی میں؟
مظفرپور میں مردم شماری کے ابتدائی نتائج نے حکام کو الجھن میں ڈال دیا ہے
مظفرپور شہر میں جاری مردم شماری کے عمل نے انتظامیہ کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ شہر کی آبادی کے جو ابتدائی اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، وہ توقعات سے کہیں کم ہیں۔ 99 فیصد کام مکمل ہونے کے باوجود شہر کی کل آبادی ساڑھے چار لاکھ کے ہندسے کو بھی نہیں چھو سکی ہے۔ یہ صورتحال اس لیے بھی تشویشناک ہے کیونکہ شہر میں ترقیاتی منصوبوں، خاص طور پر میٹرو جیسے بڑے پروجیکٹس کے لیے آبادی کا ایک خاص معیار ہونا ضروری ہوتا ہے۔
آبادی میں جمود اور انتظامی چیلنجز
موجودہ اعداد و شمار کے مطابق، میونسپل کارپوریشن کے 49 وارڈوں اور شہر سے متصل چار پنچایتوں (بھکھن پور، شیرپور، شیخ پور اور بھگوان پور) کو ملا کر کل آبادی 3 لاکھ 77 ہزار 310 ریکارڈ کی گئی ہے۔ موازنہ کیا جائے تو 2011 کی مردم شماری میں یہ تعداد 3 لاکھ 82 ہزار تھی۔ یعنی ایک دہائی سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی آبادی میں کوئی خاص اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا، بلکہ یہ تعداد پہلے سے بھی کم نظر آ رہی ہے۔
مردم شماری میں رکاوٹیں اور کوتاہیاں
شہر میں مردم شماری کے دوران کئی طرح کی رکاوٹیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ بہت سے مکان مالکان اپنی درست تعداد بتانے سے گریز کر رہے ہیں، جبکہ کرایہ داروں کی گنتی میں بھی کوتاہی برتی جا رہی ہے۔ کئی لوگ یہ کہہ کر معلومات دینے سے بچ رہے ہیں کہ ان کی اصل رہائش گاؤں میں ہے اور وہ یہاں صرف عارضی طور پر مقیم ہیں۔
انتظامیہ نے اس معاملے پر سخت رخ اختیار کیا ہے۔ مردم شماری کی نگرانی کر رہے افسران نے تقریباً 90 ایسے شمار کنندگان (Enumerators) کی نشاندہی کی ہے جنہوں نے کئی گھروں کو بغیر گنتی کیے ‘لاک’ دکھا دیا ہے۔ ان تمام اہلکاروں کو وضاحت کے لیے طلب کیا گیا ہے اور معاملے کی اعلیٰ سطح پر جانچ کی جا رہی ہے۔
ترقیاتی منصوبوں پر اثرات
میٹرو پروجیکٹ کے لیے عام طور پر 10 لاکھ یا اس سے زائد آبادی کا ہونا ایک بنیادی شرط مانی جاتی ہے۔ ایسے میں مردم شماری کے یہ کمزور اعداد و شمار شہر کے مستقبل کے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بن کر ابھرے ہیں۔ اگر آبادی کا یہی رجحان رہا تو شہر کی ترقیاتی ترجیحات پر نظر ثانی کرنا ناگزیر ہو جائے گا۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
