مظفرپور منڈی: سونے کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ، چاندی کی اڑان سے خریدار پریشان
مظفرپور کے بازاروں میں قیمتوں کا نیا رجحان
مظفرپور کے سررافہ بازار میں ہفتہ 13 جون 2026 کو قیمتی دھاتوں کی تجارت میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ مقامی سطح پر سونے کی مانگ اور عالمی منڈی کے اثرات کے باعث سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے خریداروں کو کچھ حد تک ریلیف ملا ہے۔ دوسری جانب، چاندی کی قیمتوں میں اچانک تیزی نے سرمایہ کاروں اور جیولرز کو حیران کر دیا ہے۔
سونا سستا، چاندی مہنگی
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، سونے کی فی 10 گرام قیمت میں 1000 روپے کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے برعکس، چاندی کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے بعد چاندی 7000 روپے فی کلو مہنگی ہو کر 2.47 لاکھ روپے فی کلو کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ مقامی جیولرز کا کہنا ہے کہ بازار میں یہ اتار چڑھاؤ عالمی رجحانات کا نتیجہ ہے اور آنے والے دنوں میں بھی قیمتوں میں تبدیلی کا امکان برقرار ہے۔
اشیائے خوردونوش اور منڈی کی صورتحال
سررافہ بازار کے برعکس، اہیاپور بازار سمیتی میں اشیائے خوردونوش کے نرخوں میں استحکام پایا جاتا ہے۔ اناج، دالیں اور خوردنی تیل کی قیمتیں گزشتہ دنوں کی طرح برقرار ہیں۔ بازار میں سامان کی آمد معمول کے مطابق جاری ہے، جس کی وجہ سے قیمتوں میں کسی قسم کا غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔
سبزیوں اور خشک میوہ جات کا بازار
اہیاپور منڈی میں آلو اور پیاز کی تھوک اور پرچون قیمتیں مستحکم ہیں۔ کسانوں اور تاجروں کے درمیان معمول کے مطابق لین دین جاری ہے اور کسی بڑی تبدیلی کی اطلاع نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، خشک میوہ جات اور کریانہ کے سامان کی قیمتیں بھی مستحکم ہیں، جس سے عام صارفین کو بڑی حد تک سکون ملا ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ
تاجروں کا ماننا ہے کہ منڈی میں رسد کی فراہمی معمول پر ہونے کی وجہ سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں قابو میں ہیں۔ تاہم، قیمتی دھاتوں کے معاملے میں عالمی منڈی کے حالات براہ راست اثر انداز ہو رہے ہیں۔ صارفین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ خریداری سے قبل بازار کے تازہ ترین نرخوں کا جائزہ ضرور لیں۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
