مظفرپور ماڈل اسپتال: کروڑوں کی عمارت میں پہلی بارش ہی بن گئی وبال، آپریشن تھیٹر میں داخل ہوا گندا پانی
تعمیراتی معیار پر سنگین سوالات
مظفرپور کے ماڈل اسپتال میں جمعہ کو ہونے والی بارش نے انتظامیہ کے دعووں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی اس جدید عمارت میں پانی کا داخلہ نہ صرف انتظامی غفلت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس کی تعمیراتی کوالٹی پر بھی بڑے سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
بارش کا پانی براہ راست آپریشن تھیٹر (OT) کے اندر پہنچ گیا، جس کی وجہ سے طبی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں۔ اسپتال کے عملے کے مطابق، چھت پر جمع ہونے والا پانی بیسن کے پائپوں کے ذریعے آپریشن تھیٹر میں داخل ہوا، جس سے وہاں موجود لاکھوں روپے مالیت کے حساس طبی آلات کے خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
مریضوں کی مشکلات میں اضافہ
اسپتال میں پانی بھر جانے کے باعث معمول کی طبی خدمات معطل ہو گئیں۔ صورتحال اتنی سنگین تھی کہ تقریباً ایک درجن مریضوں کو ڈریسنگ کے لیے ایمرجنسی وارڈ میں منتقل کرنا پڑا۔ مریضوں اور ان کے لواحقین نے اسپتال کی اس بدانتظامی پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ بالو گھاٹ اور تین پوکھریا جیسے علاقوں سے آئے مریضوں نے بتایا کہ انہیں معمولی طبی امداد کے لیے بھی دردر کی ٹھوکریں کھانی پڑیں۔
صرف آپریشن تھیٹر ہی نہیں، بلکہ نیوٹریشن ری ہیبلی ٹیشن سینٹر اور ضلعی ملیریا آفس میں بھی پانی جمع ہو گیا، جس سے وہاں کام کرنے والے ملازمین اور آنے والے مریضوں کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
ایک سال پرانی عمارت اور ڈرینیج کا نظام
قابل ذکر ہے کہ 29 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے اس ماڈل اسپتال کا افتتاح 14 مئی 2025 کو کیا گیا تھا۔ محض ایک سال کے اندر ہی ڈرینیج سسٹم کا فیل ہو جانا اور چھت سے پانی کا رساؤ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تعمیراتی کام میں معیار کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ اسپتال انتظامیہ نے اس واقعے کو ایک سنگین تکنیکی خامی تسلیم کرتے ہوئے متعلقہ محکمہ کو رپورٹ بھیج دی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس لاپرواہی کے ذمہ داروں کے خلاف کیا کارروائی کی جاتی ہے اور کیا مریضوں کو مستقبل میں ایسی صورتحال سے نجات مل سکے گی۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔