مظفرپور: ماری پور فلائی اوور پر چوتھی بار بیریئر نصب، بھاری گاڑیوں کا داخلہ بند، شہر میں آمد و رفت کا نیا روٹ
مظفرپور کے ماری پور ریلوے اوور برج (آر او بی) پر مرمت کے کام کے پیش نظر چوتھی بار ہائیٹ بیریئر نصب کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام سے بھاری گاڑیوں کا شہر میں داخلہ مکمل طور پر بند ہو گیا ہے اور اب انہیں متبادل راستوں سے گزرنا پڑے گا۔ یہ فیصلہ پل کی جاری مرمت اور اس کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
پل تعمیراتی کارپوریشن نے اس سے قبل بھی تین بار ہائیٹ بیریئر لگائے تھے، لیکن ہر بار ٹرکوں کی ٹکر سے وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے تھے۔ ان واقعات کے بعد کارپوریشن نے آر او بی کی زمینی سطح پر مرمت کا کام شروع کیا تھا۔ اب پل کے بیرنگ اور ایکسپینشن جوائنٹ کی مرمت کا کام کیا جانا ہے، جس کے لیے بھاری گاڑیوں کی آمد و رفت کو روکنا ضروری سمجھا گیا ہے۔
آئی آئی ٹی پٹنہ کی ٹیم نے پل کا معائنہ کرنے کے بعد اسے بھاری گاڑیوں کے لیے غیر محفوظ قرار دیا تھا اور ان کی آمد و رفت بند کرنے کی سفارش کی تھی۔ اس پر اس وقت کے ضلع مجسٹریٹ سبرت کمار سین نے حکم جاری کرتے ہوئے دونوں اطراف سے بھاری گاڑیوں کے داخلے پر پابندی لگا دی تھی۔ جون میں پل تعمیراتی کارپوریشن نے دونوں اطراف ہائیٹ بیریئر نصب کیے تھے، لیکن بار بار ٹرکوں کی ٹکر سے وہ ٹوٹ گئے۔
تین بار بیریئر ٹوٹنے کے بعد، پل تعمیراتی کارپوریشن نے حفاظتی نقطہ نظر سے انہیں ہٹا دیا تھا۔ اس کے نتیجے میں املی چٹی کی جانب سے نجی بسیں اور رات کے وقت سامان سے لدے بڑے ٹرک بغیر کسی روک ٹوک کے گزرنے لگے تھے، جس سے نہ صرف پل پر دباؤ بڑھ رہا تھا بلکہ کسی بڑے حادثے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا تھا۔
ان حالات کے پیش نظر، اب مزید مضبوط بیریئر اور ستون نصب کیے گئے ہیں۔ ماری پور آر او بی کی مرمت کا کام تقریباً ساڑھے چار کروڑ روپے کی لاگت سے جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی دادار پل کی بھی مرمت کی جا رہی ہے۔ حالانکہ گزشتہ دنوں ندی میں پانی کی سطح بڑھنے سے کام رک گیا تھا، لیکن اب پانی کی سطح معمول پر آنے کے بعد اسے دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔
اس پابندی کے بعد، سرکاری بسیں اب مہیش بابو چوک، مہدی حسن چوک اور برہم پورہ سے ہو کر چل رہی ہیں۔ شہر میں داخلے کے لیے بھاری گاڑیوں کے روٹ میں تبدیلی سے شہریوں کو کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن یہ اقدام پل کی طویل مدتی حفاظت اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔