مقامی خبریں

مظفرپور: شروانی میلے میں انتظامیہ اور سیوادلوں کے درمیان تال میل کی ضرورت، کانوریا یاتریوں کی مشکلات پر تشویش

انتظامیہ سے سیوادلوں کی اپیل: زمینی حقائق کو سمجھنے کے لیے مشاورت ضروری

مظفرپور میں شروانی میلے کے دوران بابا غریب ناتھ مندر آنے والے کانوریا یاتریوں کی سہولت کے لیے انتظامیہ کی جانب سے تیاریاں جاری ہیں، تاہم شہر میں خدمات انجام دینے والے مختلف سیوادلوں نے انتظامیہ کے طریقہ کار پر سوال اٹھائے ہیں۔ سیوادلوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے منعقد کی جانے والی اہم میٹنگوں میں ان لوگوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے جو زمین پر رہ کر یاتریوں کی خدمت کرتے ہیں۔

ڈاک کانوریوں کی مشکلات اور راستوں کا بحران

سیوادلوں کے مطابق ڈاک کانوریوں کو سب سے زیادہ دشواری آخری دو کلومیٹر کے سفر میں پیش آتی ہے۔ پہلےجا سے تقریباً 80 کلومیٹر کا سفر طے کرنے کے بعد جب یہ یاتری ہری سبھا چوک پہنچتے ہیں، تو چھوٹی کلیانی چوک پر ان کا سامنا مقامی یاتریوں کی بھیڑ سے ہوتا ہے۔ اس مقام پر ڈاک کانوریوں کی رفتار سست پڑ جاتی ہے اور انہیں جل ابھیشیک کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کی عقیدت متاثر ہوتی ہے۔

صفائی اور بنیادی سہولیات کا فقدان

سیوا کیمپوں کے ذمہ داران نے شہر کے مختلف مقامات پر صفائی کے ناقص انتظامات کی نشاندہی کی ہے۔ ساہو روڈ پر نالوں کی نکاسی نہ ہونے سے سڑکوں پر گندا پانی جمع رہتا ہے، جس سے گزرنے پر یاتری مجبور ہیں۔ اسی طرح رام دیالو نگر میں کھلے نالے اور ٹینٹ سٹی میں ایمبولینس و موبائل ٹوائلٹ کی غلط جگہ پر تعیناتی بھی بڑی رکاوٹ ہے۔ خواتین یاتریوں کے لیے مندر کے آس پاس موبائل ٹوائلٹ کی عدم دستیابی ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

تجاوزات اور ٹریفک کا دباؤ

مقامی سیوا سمیتی کے ارکان نے تجویز دی ہے کہ ماکھن ساہ چوک سے گاندھی چوک تک فٹ پاتھ پر لگنے والی دکانوں کو ہٹایا جائے، کیونکہ ان کی وجہ سے سڑکیں تنگ ہو جاتی ہیں اور شدید جام لگ جاتا ہے۔ سیوادلوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر انتظامیہ ان کے ساتھ مل کر روٹ پلان تیار کرے اور ان کے مشوروں کو عملی جامہ پہنائے، تو کانوریوں کے سفر کو محفوظ اور آسان بنایا جا سکتا ہے۔

انتظامیہ کا موقف

دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کانوریوں کی سہولت کے لیے تمام تر انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ میلے سے قبل سیوادلوں کے ساتھ ایک خصوصی میٹنگ کی جائے گی تاکہ ان کے مشوروں کو شامل کرتے ہوئے بہتر حکمت عملی بنائی جا سکے۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button