مظفرپور: سرکاری اسکول کے ہیڈ ماسٹر نے دفتر کا ‘شدھی کرن’ کیا، ویڈیو وائرل
بہار کے مظفرپور ضلع میں ایک سرکاری اسکول کے ہیڈ ماسٹر کی جانب سے اپنے دفتر کے ‘شدھی کرن’ (پاکیزگی) کی رسم ادا کرنے کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے مقامی سطح پر بحث چھیڑ دی ہے۔ اس واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں ہیڈ ماسٹر کو اپنے دفتر میں پوجا پاٹ کرتے اور گنگا جل چھڑکتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، یہ واقعہ مظفرپور کے ایک پرائمری اسکول میں پیش آیا۔ وائرل ویڈیو میں ہیڈ ماسٹر صاحب کو روایتی لباس میں ملبوس، اپنے دفتر کے اندر پوجا کی اشیاء کے ساتھ بیٹھے ہوئے دیکھا جا رہا ہے۔ وہ منتروں کا جاپ کر رہے ہیں اور دفتر کے مختلف حصوں پر گنگا جل کا چھڑکاؤ کر رہے ہیں، جس کا مقصد دفتر کو ‘پاک’ کرنا بتایا جا رہا ہے۔
اس واقعے نے اسکول انتظامیہ اور تعلیمی حلقوں میں کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایک سرکاری اسکول کے احاطے میں اس طرح کی مذہبی رسومات کی ادائیگی پر کچھ لوگ اعتراض کر رہے ہیں، جبکہ کچھ اسے ذاتی عقیدے کا معاملہ قرار دے رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سرکاری اداروں کو سیکولر اصولوں پر چلنا چاہیے اور اس طرح کی سرگرمیاں اسکول کے ماحول کو متاثر کر سکتی ہیں۔
دوسری جانب، ہیڈ ماسٹر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ ان کا ذاتی عقیدہ ہے اور اس سے اسکول کے تعلیمی ماحول پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا۔ ان کا مؤقف ہے کہ ہیڈ ماسٹر نے یہ عمل کسی کو نقصان پہنچانے یا کسی خاص مذہب کو فروغ دینے کے لیے نہیں کیا، بلکہ صرف اپنے عقیدے کے مطابق اپنے دفتر کی پاکیزگی کے لیے کیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق، اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد ضلع تعلیمی افسران نے اس معاملے کا نوٹس لیا ہے۔ یہ دیکھا جا رہا ہے کہ آیا اس معاملے میں کوئی سرکاری ضابطے کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا نہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر سرکاری اداروں میں مذہبی رسومات کی ادائیگی کی حدود پر بحث کو جنم دیا ہے۔ مظفرپور کے تعلیمی حلقے اور عام عوام اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ اس پر انتظامیہ کا کیا ردعمل آتا ہے۔
اسکول کے دیگر اساتذہ اور طلباء نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ تاہم، یہ واقعہ مظفرپور میں ایک اہم موضوع بحث بن چکا ہے اور لوگ اس پر اپنی اپنی آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
