مظفرپور: دہائیوں سے مفرور خطرناک مجرم دیویندر رائے ایس ٹی ایف کے ہتھے چڑھا
مظفرپور میں بڑی کارروائی
ضلع مظفرپور میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری مہم کو اس وقت بڑی کامیابی ملی جب بہار ایس ٹی ایف نے ایک طویل عرصے سے مفرور مجرم دیویندر رائے کو گرفتار کر لیا۔ موتی پور تھانہ علاقہ سے پکڑا گیا یہ ملزم کئی سنگین وارداتوں میں پولیس کو مطلوب تھا اور گزشتہ دس برسوں سے قانون کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا تھا۔
کون ہے دیویندر رائے؟
دیویندر رائے کا نام سن 2016 میں بوچاہاں تھانہ میں درج ڈکیتی اور لوٹ مار کے ایک ہائی پروفائل معاملے میں سامنے آیا تھا۔ تب سے لے کر اب تک وہ پولیس کی گرفت سے باہر تھا۔ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ ملزم کا تعلق موتی پور کے بٹھنا گاؤں سے ہے، جہاں سے وہ اپنی گرفتاری سے بچنے کے لیے مسلسل اپنے ٹھکانے تبدیل کر رہا تھا۔
چار بڑے مقدمات کا بوجھ
پولیس ریکارڈ کے مطابق، دیویندر رائے کے خلاف صرف ایک نہیں بلکہ چار سنگین مقدمات درج ہیں۔ ان میں درج ذیل جرائم شامل ہیں:
- ڈکیتی اور لوٹ مار
- این ڈی پی ایس ایکٹ (منشیات سے متعلق جرائم)
- آرمز ایکٹ (غیر قانونی اسلحہ رکھنے کا معاملہ)
ایس ٹی ایف کی ٹیم کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ ملزم موتی پور کے کسی خفیہ مقام پر پناہ لیے ہوئے ہے۔ اس اطلاع کی تصدیق کے بعد ایک خصوصی ٹیم نے جال بچھایا اور اسے حراست میں لے لیا۔
تفتیش کا دائرہ وسیع
گرفتاری کے بعد اب پولیس اس کے پورے نیٹ ورک کو کھنگال رہی ہے۔ ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران ملزم نے کئی اہم انکشافات کیے ہیں اور اپنے ساتھیوں کے ٹھکانوں کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی ہیں۔ ان معلومات کی بنیاد پر ضلع کے مختلف حصوں میں چھاپہ ماری کا عمل جاری ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ دیویندر کی گرفتاری سے جرائم کے ایک بڑے نیٹ ورک کا پردہ فاش ہو سکتا ہے اور آنے والے دنوں میں مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔ فی الحال پولیس اس کے مجرمانہ ماضی کی گہرائی سے جانچ کر رہی ہے تاکہ اس کے جرائم کے دائرہ کار کا مکمل تعین کیا جا سکے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔