مظفرپور: بایا ندی میں ڈوب کر سرپنچ کی موت، علاقے میں سوگ کی لہر
مظفرپور کے صاحب گنج بلاک میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا ہے جہاں ہلیم پور پنچایت کے سرپنچ اور سرپنچ سنگھ کے بلاک نائب صدر، 49 سالہ ایشور چندر دیواکر، بایا ندی میں ڈوب کر انتقال کر گئے۔ یہ واقعہ اتوار کے روز پیش آیا جب سرپنچ ایک خاتون کی آخری رسومات میں شرکت کے بعد ندی میں نہانے اترے تھے۔ اس حادثے نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، ایشور چندر دیواکر ایک مقامی خاتون کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے گئے تھے۔ رسومات کی ادائیگی کے بعد، دیگر افراد کے ساتھ وہ بایا ندی میں نہانے کے لیے اترے۔ نہاتے ہوئے وہ گہرے پانی میں چلے گئے اور ڈوبنے لگے۔ انہیں بچانے کی کوشش میں پردیپ کمار نامی ایک شخص بھی خطرے میں پڑ گیا، تاہم وہ بال بال بچ گئے۔
مقامی لوگوں کی مدد سے سرپنچ اور پردیپ کمار کو فوری طور پر ندی سے باہر نکالا گیا۔ انہیں تشویشناک حالت میں کمیونٹی ہیلتھ سینٹر (سی ایچ سی) لے جایا گیا۔ بدقسمتی سے، وہاں موجود ڈاکٹروں نے ایشور چندر دیواکر کو مردہ قرار دے دیا۔ پردیپ کمار کا علاج جاری ہے اور ان کی حالت اب مستحکم بتائی جا رہی ہے۔ اس واقعے کے بعد ندی کنارے افراتفری کا ماحول پیدا ہو گیا اور لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی۔
متوفی سرپنچ کے اہل خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔ ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ سرپنچ کی ناگہانی موت سے گھر میں کہرام مچا ہوا ہے اور لواحقین کا رو رو کر برا حال ہے۔ اہل خانہ نے بتایا کہ ایشور چندر دیواکر ایک نیک دل اور عوامی خدمت گار شخصیت تھے۔ ان کی موت سے پنچایت کو ایک بڑا نقصان پہنچا ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس سی ایچ سی پہنچی اور ضروری چھان بین کی۔ پولیس نے سرپنچ کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ایس کے ایم سی ایچ بھیج دیا ہے۔ سرپنچ سنگھ کے بلاک صدر شمبھو رائے، اودھیش سنگھ، راس بہاری پال، سنجے کمار اور دیگر سرپنچوں نے ایشور چندر دیواکر کی موت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے متوفی کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور اس دکھ کی گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے رہنے کا عزم کیا۔ یہ واقعہ مظفرپور میں ایک المناک یاد بن کر رہ گیا ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
