مظفرپور: اورائی-کٹرا کے اسکولوں میں پانی بھرنے سے تعلیمی سرگرمیاں معطل
مظفرپور کے اورائی اور کٹرا بلاکس میں واقع کئی اسکولوں کے احاطے میں بارش کا پانی بھر جانے کے باعث تعلیمی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ اسکولوں میں پانی جمع ہونے کی وجہ سے طلباء اور اساتذہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں کلاسیں نہیں لگ پا رہی ہیں اور بچوں کی پڑھائی کا حرج ہو رہا ہے۔ یہ صورتحال ہر سال مون سون کے موسم میں ان علاقوں کے اسکولوں کے لیے ایک معمول بن چکی ہے، جہاں نکاسی آب کا مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے معمولی بارش بھی بڑے مسائل پیدا کر دیتی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق، اورائی اور کٹرا بلاکس کے کئی سرکاری اسکولوں میں پانی کمروں تک پہنچ چکا ہے۔ اسکول کے میدان اور راہداریاں مکمل طور پر زیر آب ہیں، جس کی وجہ سے بچوں کا اسکول آنا ناممکن ہو گیا ہے۔ اساتذہ بھی اس صورتحال میں اسکول پہنچنے اور تدریسی عمل جاری رکھنے سے قاصر ہیں۔ والدین نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور انتظامیہ سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسکولوں میں پانی بھرنے سے نہ صرف بچوں کی پڑھائی کا نقصان ہو رہا ہے بلکہ صحت کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں، کیونکہ جمع شدہ پانی میں مچھروں کی افزائش کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
یہ مسئلہ صرف چند اسکولوں تک محدود نہیں بلکہ پورے علاقے میں پھیلا ہوا ہے۔ اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے کئی بار اعلیٰ حکام کو اس مسئلے سے آگاہ کیا ہے، لیکن اب تک کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی۔ نکاسی آب کے نظام کی خامیوں کو دور کرنے کے لیے کوئی مستقل حل نہیں نکالا گیا، جس کی وجہ سے ہر سال بارشوں میں یہی صورتحال دہرائی جاتی ہے۔ اسکولوں میں بنیادی ڈھانچے کی کمی اور دیکھ بھال کا فقدان بھی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔
طلباء کے مستقبل پر اس صورتحال کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب تعلیم کو فروغ دینے پر زور دیا جا رہا ہے، اسکولوں کا بند ہونا بچوں کے تعلیمی سفر میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ خاص طور پر غریب اور پسماندہ طبقے کے بچے جو صرف سرکاری اسکولوں پر انحصار کرتے ہیں، انہیں سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ان کے لیے آن لائن تعلیم کا متبادل بھی دستیاب نہیں، جس سے ان کی پڑھائی مکمل طور پر ٹھپ ہو جاتی ہے۔
مقامی رہنماؤں اور سماجی کارکنوں نے بھی اس مسئلے پر آواز اٹھائی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسکولوں میں نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ بچوں کی تعلیم سے سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور اسکولوں کو ہر حال میں تعلیمی سرگرمیوں کے لیے موزوں رکھا جانا چاہیے۔ امید ہے کہ انتظامیہ اس سنگین مسئلے پر جلد از جلد توجہ دے گی اور طلباء کے تعلیمی نقصان کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کرے گی۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
