مقامی خبریں

مظفرپور: اسکول میں کرنٹ لگنے سے طالبہ کی حالت تشویشناک، آئی سی یو میں زیرِ علاج

مظفرپور: اہیاپور کے اپگریڈڈ مڈل اسکول میں پیش آنے والے ایک دلخراش واقعے میں، بجلی کے کرنٹ کی زد میں آکر جھلسنے والی طالبہ سندھیا کماری کی حالت انتہائی تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ یہ واقعہ جمعہ کو پیش آیا تھا، جس کے بعد سندھیا اور ایک دیگر طالبہ نندنی کو فوری طور پر ایس کے ایم سی ایچ کے آئی سی یو میں داخل کرایا گیا تھا۔ ڈاکٹروں کے مطابق، سندھیا کماری تقریباً 40 فیصد تک جھلس چکی ہیں اور ان کے دونوں ہاتھ بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

طبی ذرائع کے مطابق، سندھیا کے جسم میں خون کی شدید کمی بھی واقع ہو گئی ہے، جو ان کی حالت کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ سندھیا کو پیر کے روز ایس کے ایم سی ایچ کے سپر اسپیشلٹی بلاک میں منتقل کیا جائے گا تاکہ انہیں مزید خصوصی طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ ہسپتال کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر پروفیسر مہیش پرساد نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سندھیا کا علاج سینئر ڈاکٹروں کی نگرانی میں جاری ہے اور ان کی صحت یابی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

اس حادثے میں زخمی ہونے والی دوسری طالبہ نندنی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ اب خطرے سے باہر ہیں اور ان کی حالت میں بہتری آ رہی ہے۔ دونوں طالبات کے اہل خانہ اس واقعے کے بعد سے شدید پریشانی اور صدمے میں ہیں۔ اسکول انتظامیہ اور مقامی حکام کی جانب سے اس واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ بجلی کا کرنٹ لگنے کی وجہ کیا تھی اور مستقبل میں ایسے حادثات سے بچنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

یہ واقعہ اسکولوں میں بچوں کی حفاظت کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ والدین اور مقامی برادری کی جانب سے اسکولوں میں بجلی کے نظام کی باقاعدہ جانچ پڑتال اور حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ سندھیا کی حالت کی سنگینی نے پورے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور ہر کوئی ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہے۔ یہ ضروری ہے کہ اسکولوں میں بچوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جائے اور تمام ضروری حفاظتی اقدامات کو سختی سے نافذ کیا جائے۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button