دہلی میں 16 سال بعد شدید گرمی کا حملہ: اورنج الرٹ جاری، ہیٹ اسٹروک کے کیسز میں اضافہ
دارالحکومت دہلی میں اس سال گزشتہ 16 برسوں کی سب سے شدید گرمی پڑنے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ چھ دنوں کے لیے ‘اورنج الرٹ’ جاری کر دیا ہے، جس سے شہریوں کو سخت احتیاط برتنے کی تاکید کی گئی ہے۔ رواں ماہ اب تک چار دن شدید لو کی صورتحال رہ چکی ہے اور آئندہ ہفتے بھی یہی صورتحال برقرار رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
جمعہ کو دہلی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی تیز دھوپ نکلی رہی، اور دوپہر میں دھوپ میں کھڑا ہونا مشکل ہو گیا۔ صفدرجنگ موسمیاتی مرکز میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 43.3 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے 3.1 ڈگری زیادہ تھا۔ کم سے کم درجہ حرارت 29.3 ڈگری سیلسیس رہا۔ دہلی کے ریز علاقے میں سب سے زیادہ درجہ حرارت 44.4 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے 4.4 ڈگری زیادہ ہے۔
آئندہ دنوں کی پیش گوئی اور ہیٹ اسٹروک کا خطرہ
محکمہ موسمیات کے مطابق، دہلی کے لوگوں کو فی الحال شدید گرمی سے راحت ملنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ہفتہ کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 43 سے 45 ڈگری اور کم سے کم درجہ حرارت 27 سے 29 ڈگری رہنے کا امکان ہے۔ اس دوران ہوا کی رفتار 20 سے 30 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہو سکتی ہے، اور ہلکے بادل یا گرج چمک کے ساتھ بارش کا بھی امکان ہے۔ 28 مئی تک دہلی میں شدید گرمی اور لو کی صورتحال برقرار رہے گی۔
شدید گرمی کے باعث ہیٹ اسٹروک کے کیسز میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ آر ایم ایل اسپتال میں 24 سالہ طالب علم کی حالت اب بھی تشویشناک ہے جو ہیٹ اسٹروک کا شکار ہوا تھا۔ ایک 50 سالہ مریض کی حالت میں بہتری آئی ہے، لیکن اسے اب بھی ذہنی الجھن کا سامنا ہے۔ یہ دونوں مریض 104-105 ڈگری بخار کے ساتھ بے ہوشی کی حالت میں اسپتال پہنچے تھے۔
ڈاکٹروں کی ہدایات
ڈاکٹروں نے شدید گرمی اور لو کے باعث سر درد، الٹی، تھکاوٹ، چکر آنے اور ڈی ہائیڈریشن جیسی شکایات میں اضافے کی اطلاع دی ہے۔ دل کے مریضوں کے لیے بھی گرمی کو خطرناک قرار دیا گیا ہے، کیونکہ ڈی ہائیڈریشن اور الیکٹرولائٹس کے عدم توازن سے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو سکتی ہے اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
- احتیاطی تدابیر: ڈاکٹروں نے مشورہ دیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ پانی اور سیال مشروبات کا استعمال کریں، دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، اور ہلکے رنگ کے ڈھیلے کپڑے پہنیں۔
- زیادہ خطرہ: بزرگ افراد، دل کے پرانے مریض، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور گردے کے امراض میں مبتلا افراد کو الیکٹرولائٹس کے عدم توازن کے باعث دل کی پریشانیوں کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔
- علامات: ڈی ہائیڈریشن، کمزوری، چکر، الجھن، دل کی دھڑکن کا بڑھنا، بے ہوشی اور اچانک گرنے جیسی علامات ظاہر ہونے پر فوری طبی امداد حاصل کریں۔ پسینہ آنا بند ہو جانا یا بہت زیادہ پسینہ آنا بھی خطرے کی علامت ہو سکتی ہے۔
ایمس کے میڈیسن ڈپارٹمنٹ کے پروفیسر ڈاکٹر نیرج نشچل نے بتایا کہ زیادہ گرمی میں جسم کا درجہ حرارت کنٹرول کرنے کے لیے زیادہ پسینہ آتا ہے، جس سے دل پر دباؤ بڑھتا ہے۔ اس لیے گرمی میں اپنے دل کا خاص خیال رکھیں۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
