مقامی خبریں

بی آر اے بی یو: ایم ایڈ کے طلبہ امتحان فارم سے محروم، مارک شیٹ کے لیے بھی بھٹک رہے ہیں طلبا

تعلیمی بحران: ایم ایڈ کا امتحان فارم نہ بھر سکا، طلبہ پریشان

مظفرپور واقع بی آر اے بہار یونیورسٹی (BRABU) میں ایک بار پھر انتظامی لاپرواہی کی وجہ سے طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ ایم ایڈ سیشن 2025-27 کے پہلے سال کے طلبہ کے لیے امتحان فارم بھرنے کی تاریخ کا اعلان تو کر دیا گیا، لیکن عملی طور پر فارم نہیں بھرے جا سکے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے 25 مئی سے 8 جون تک کی ڈیڈ لائن مقرر کی تھی، مگر طلبہ کا ڈیٹا آن لائن پورٹل پر دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے کالج انتظامیہ بے بس نظر آئی۔

ڈیٹا کی کمی اور کالجوں کی مجبوری

شہر کے تین ایم ایڈ کالجوں میں ہر سال تقریباً 150 طلبہ داخلہ لیتے ہیں۔ کالج انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کی جانب سے طلبہ کا آن لائن ڈیٹا فراہم نہیں کیا گیا، جس کے باعث فارم بھرنے کا عمل شروع ہی نہیں ہو سکا۔ اس تعلیمی تعطل کے پیش نظر کالجوں نے یونیورسٹی حکام کو خط لکھ کر تاریخ میں توسیع کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب، یونیورسٹی کے امتحان کنٹرولر کا دعویٰ ہے کہ صرف ان طلبہ کے فارم رکے ہیں جنہوں نے مائیگریشن سرٹیفکیٹ جمع نہیں کرایا ہے۔ تاہم، طلبہ کا کہنا ہے کہ سیشن میں تاخیر سے ان کا تعلیمی کیریئر متاثر ہو رہا ہے۔

مارک شیٹ اور رزلٹ کا طویل انتظار

یونیورسٹی میں صرف ایم ایڈ ہی نہیں، بلکہ گریجویشن کرنے والے سینکڑوں طلبہ بھی اپنی مارک شیٹ کے لیے گزشتہ دو سالوں سے چکر کاٹ رہے ہیں۔ پیر کو منعقدہ ‘طلبہ سمواد’ کے دوران طلبہ نے اپنی شکایات کا انبار لگا دیا۔ کئی طلبہ نے شکایت کی کہ 2024 اور 2025 میں گریجویشن مکمل کرنے کے باوجود انہیں اب تک اصل مارک شیٹ نہیں ملی ہے۔

پریکٹیکل کے نمبر غائب، رزلٹ پینڈنگ

سمواد کے دوران ایک سنگین مسئلہ یہ بھی سامنے آیا کہ کئی طلبہ کے پریکٹیکل کے نمبر فائنل رزلٹ میں شامل ہی نہیں کیے گئے، جس کی وجہ سے ان کا رزلٹ پینڈنگ ہو گیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کا موقف ہے کہ کالجوں سے ٹی آر (TR) موصول نہ ہونے کی وجہ سے مارک شیٹ جاری کرنے میں رکاوٹ آ رہی ہے۔ طلبہ اب اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ یونیورسٹی انتظامیہ جلد از جلد ان کے تعلیمی دستاویزات جاری کرے تاکہ وہ آگے کی تعلیم یا ملازمت کے لیے درخواست دے سکیں۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button