بابا غریب ناتھ کوریڈور: مظفر پور میں عقیدت مندوں کے لیے سہولیات کا نیا دور، وزیر سیاحت نے لیا جائزہ
مظفر پور میں مذہبی سیاحت کو ملے گا فروغ
شہر کے مشہور بابا غریب ناتھ دھام کو ایک جدید اور سہولیات سے آراستہ کوریڈور کے طور پر تیار کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ آنے والے ساون میلے کے پیش نظر ریاستی حکومت اور ضلعی انتظامیہ نے انتظامات کو حتمی شکل دینی شروع کر دی ہے۔ اسی سلسلے میں وزیر سیاحت کیدار پرساد گپتا نے مندر کا دورہ کیا اور جاری کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا۔
ساون میلے کے لیے خصوصی انتظامات
وزیر سیاحت نے مندر کے احاطے، کانوریا پتھ اور آس پاس کے علاقوں کا معائنہ کرتے ہوئے افسران کو سخت ہدایات جاری کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بار ساون میلے میں آنے والے عقیدت مندوں کو پہلے سے کہیں بہتر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ خاص طور پر مظفر پور اور ویشالی کی سرحد پر ایک شاندار تورن دوار تعمیر کیا جائے گا، جو زائرین کے لیے استقبالیہ کا کام کرے گا۔
بنیادی ڈھانچے میں بہتری
دورے کے دوران وزیر نے مندر کے داخلی اور خارجی راستوں، مکھن شاہ چوک اور چھاتا بازار چوک جیسے مصروف مقامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے راستے میں حائل بجلی کے کھمبوں اور رکاوٹوں کو ہٹانے کے لیے فوری اقدامات کرنے کو کہا۔ اس کے علاوہ، خواتین زائرین کی سہولت کے لیے مندر کے قریب نئے غسل خانے اور بیت الخلاء کی تعمیر کو ترجیح دینے پر زور دیا گیا۔
کانوریا پتھ پر سہولیات کا جال
حکومت کی جانب سے پہلےجا گھاٹ سے لے کر بابا غریب ناتھ مندر تک کے راستے کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ کانوریا پتھ پر ٹینٹ سٹی، پینے کے صاف پانی کا انتظام، روشنی کا مناسب بندوبست اور آرام گاہیں تعمیر کی جائیں گی۔ وزیر نے واضح کیا کہ ان کا مقصد یہ ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں آنے والے عقیدت مندوں کو کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
مستقبل کا لائحہ عمل
حکومت کا عزم ہے کہ مذہبی مقامات کو قومی سطح پر ایک نئی شناخت دی جائے۔ بابا غریب ناتھ دھام شمالی بہار کی عقیدت کا مرکز ہے، اور یہاں کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کئی تجاویز پر کام جاری ہے۔ جیسے ہی ان منصوبوں کو حتمی منظوری ملے گی، ترقیاتی کاموں میں مزید تیزی لائی جائے گی تاکہ زائرین کو ایک پرسکون اور روحانی تجربہ فراہم کیا جا سکے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
