مقامی خبریں

ایس کے ایم سی ایچ: کارڈیک کیئر یونٹ کی بحالی کی امید، مگر طبی عملے کا بحران برقرار

مظفرپور کے مریضوں کے لیے بڑی خبر

مظفرپور کے سری کرشن میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل (ایس کے ایم سی ایچ) میں دل کے مریضوں کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ہسپتال کے کارڈیالوجی شعبے میں طویل عرصے سے بند پڑی کریٹیکل کیئر یونٹ (سی سی یو) کو دوبارہ فعال کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ اس اقدام سے ان مریضوں کو بڑی راحت ملنے کی امید ہے جنہیں دل کے دورے یا دیگر سنگین عارضوں کے دوران فوری طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔

ڈاکٹروں کی تعیناتی سے بحالی کا عمل شروع

سی سی یو کو دوبارہ چلانے کے لیے انتظامیہ نے تین نئے میڈیکل افسران کی تقرری کی ہے۔ ان میں ڈاکٹر خوشبو کماری، ڈاکٹر رتنیش کمار اور ڈاکٹر سشیل کمار شامل ہیں۔ ان ڈاکٹروں کی شمولیت سے امید کی جا رہی ہے کہ کارڈیالوجی وارڈ میں مریضوں کی دیکھ بھال کا نظام دوبارہ پٹری پر آ جائے گا۔ یاد رہے کہ جونیئر ڈاکٹروں کی شدید قلت کے باعث یہ یونٹ کافی عرصے سے بند پڑا تھا، جس کی وجہ سے مریضوں کو نجی ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا تھا۔

سپر اسپیشلٹی کا خواب اور زمینی حقائق

اگرچہ سی سی یو کی بحالی ایک خوش آئند قدم ہے، لیکن ہسپتال کے سپر اسپیشلٹی شعبے کو مکمل طور پر فعال کرنا اب بھی ایک بڑی چیلنج ہے۔ کیتھ لیب کی تنصیب مکمل ہو چکی ہے اور اسے متعلقہ شعبے کے حوالے بھی کر دیا گیا ہے، مگر اسے چلانے کے لیے درکار بنیادی ڈھانچہ ابھی بھی غائب ہے۔

  • عملے کی کمی: کیتھ لیب کو چلانے کے لیے نہ تو نرسنگ انچارج موجود ہے اور نہ ہی تکنیکی ماہرین (ٹیکنیشنز)۔
  • بنیادی عملے کا فقدان: وارڈ بوائے، کلرک اور ڈیٹا آپریٹرز جیسے اہم عہدے خالی پڑے ہیں۔
  • مزید تقرریوں کا مطالبہ: انتظامیہ نے 10 سینئر اور 10 جونیئر ریزیڈنٹ ڈاکٹروں کی مانگ کی ہے تاکہ خدمات کو بلا تعطل جاری رکھا جا سکے۔

آگے کا راستہ

محکمہ کے سربراہ نے واضح کیا ہے کہ جدید آلات کی خریداری اور وینڈر رجسٹریشن کا عمل ابھی جاری ہے۔ ہسپتال انتظامیہ اب ان تمام خالی اسامیوں کو پر کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ مریضوں کو سپر اسپیشلٹی سہولیات کا مکمل فائدہ مل سکے۔ مظفرپور کے عوام اب اس بات کے منتظر ہیں کہ کب یہ تمام سہولیات کاغذوں سے نکل کر عملی طور پر ان کی خدمت کے لیے دستیاب ہوں گی۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button