مقامی خبریں

ایس کے ایم سی ایچ میں مریضوں کی ‘منتقلی’ کا اسکینڈل: کیا سرکاری اسپتال سے نجی کلینکوں کو ریفر کیا جا رہا ہے؟

مظفر پور کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال، شری کرشنا میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل (ایس کے ایم سی ایچ) میں اس وقت ایک سنگین تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے، جب سوشل میڈیا پر ایک فہرست وائرل ہوئی جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایمرجنسی وارڈ میں آنے والے مریضوں کو مبینہ طور پر نجی اسپتالوں میں بھیجا جا رہا ہے۔ اس انکشاف نے صحت کے نظام کی شفافیت پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

وائرل فہرست اور الزامات کی حقیقت

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس فہرست میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ جون کے مہینے میں سڑک حادثات میں زخمی ہونے والے 52 سنگین مریضوں کو سرکاری اسپتال میں داخل کرنے کے بجائے شہر کے تین مختلف نجی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔ فہرست میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ کئی مریضوں نے جیسے ہی ایمرجنسی میں پانچ روپے کی پرچی کٹوائی، انہیں علاج شروع ہونے سے پہلے ہی نجی ایمبولینسوں کے ذریعے نجی اسپتالوں کی طرف بھیج دیا گیا۔

انتظامیہ کی جانب سے تحقیقات کا آغاز

اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پولیس اور اسپتال انتظامیہ نے مشترکہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ایس ڈی پی او ونینتا سنہا نے تصدیق کی ہے کہ اس معاملے کی ہر پہلو سے جانچ کی جا رہی ہے۔ انتظامیہ اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ فہرست کس نے تیار کی اور اس میں درج معلومات کتنی درست ہیں۔ تحقیقات کے لیے درج ذیل اقدامات کیے جا رہے ہیں:

  • ایمرجنسی وارڈ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کی جانچ۔
  • اسپتال کے سرکاری ریکارڈ کا وائرل فہرست سے موازنہ۔
  • نجی ایمبولینس ڈرائیوروں اور اسپتال کے عملے کے کردار کی تفتیش۔

سوالات کے گھیرے میں طبی سہولیات

ایس کے ایم سی ایچ میں 24 گھنٹے سرجن، آرتھوپیڈک اور فزیشن سمیت ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم موجود رہتی ہے۔ یہاں آئی سی یو، وینٹیلیٹر اور ہنگامی آپریشن کی تمام سہولیات دستیاب ہیں۔ ایسے میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ جب سرکاری اسپتال میں علاج کے تمام وسائل موجود ہیں، تو مریضوں کو نجی اسپتالوں کا رخ کرنے پر کیوں مجبور کیا گیا؟

اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ مریضوں کو ان کی مرضی کے خلاف یا کسی ملی بھگت کے تحت نجی اسپتال بھیجا گیا، تو ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ فی الحال، اسپتال انتظامیہ نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور حتمی رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button