مقامی خبریں

اسمارٹ سٹی کا خواب ادھورا: تین سال کی توسیع کے بعد بھی مظفرپور کی حالت جوں کی توں

مظفرپور کا اسمارٹ سٹی منصوبہ: وعدے زیادہ، کام کم

مظفرپور کو ایک جدید اور سہولیات سے آراستہ شہر بنانے کا خواب دیکھنے والے شہریوں کے لیے مایوسی کی خبر ہے۔ اسمارٹ سٹی پروجیکٹ کی مقررہ مدت، جسے چھ بار توسیع دی گئی تھی، 30 جون کو مکمل ہو چکی ہے۔ 982 کروڑ روپے کے اس بڑے بجٹ کے باوجود، شہر کی زمینی حقیقت یہ ہے کہ 19 اہم منصوبوں میں سے ایک بھی مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکا ہے۔

انتظامی دفاتر چمک اٹھے، عوامی سہولیات کا فقدان

حیران کن بات یہ ہے کہ جہاں عام شہریوں کی سہولیات سے جڑے کام التوا کا شکار ہیں، وہیں حکام کے بیٹھنے کے لیے جدید دفاتر اور میٹنگ ہالز کی تعمیر مکمل کر لی گئی ہے۔ شہر کے اہم پارک، جیسے جبا سہنی پارک اور سٹی پارک، کاغذات میں تو مکمل دکھائے جا رہے ہیں، لیکن حقیقت میں وہاں پودے سوکھ چکے ہیں اور دیکھ بھال کا فقدان ہے۔

بڑے منصوبوں کی سست رفتاری

  • سیوریج اور ڈرینیج: 344 کروڑ روپے کی اس اہم اسکیم کے تحت 8 ہزار گھروں کو جوڑنا تھا، لیکن دو سال گزرنے کے بعد بھی صرف 54 سو گھروں تک ہی کام پہنچ سکا ہے۔
  • سکندرپور جھیل: تفریحی مقام کے طور پر تیار ہونے والی اس جھیل میں صرف کمیونٹی ہال اور کشتی رانی کا کام جزوی طور پر ہوا ہے۔ اوپن ایئر تھیٹر اور گرین بفر زون کا کام اب بھی سست روی کا شکار ہے۔
  • بیڑیا بس ٹینڈ: 136 کروڑ روپے کی لاگت سے بننے والا یہ ٹرمینل فنڈز کی کمی اور سست تعمیر کی وجہ سے آدھا ادھورا پڑا ہے۔ یہاں تک کہ اگلے ایک سال میں بھی اس کے مکمل ہونے پر سوالیہ نشان ہے۔
  • پنڈت نہرو اسٹیڈیم: کھلاڑیوں کے لیے عالمی معیار کی سہولیات کا خواب دکھانے والا یہ اسٹیڈیم صرف 65 فیصد کام کے ساتھ اپنی تکمیل کا منتظر ہے۔

شہر کی سڑکوں کی حالت بھی خستہ ہے، جہاں 2021 میں شروع ہونے والے کام ناقص تعمیراتی معیار کی وجہ سے جگہ جگہ گڑھوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ اب جبکہ مدت ختم ہو چکی ہے، حکام ایک بار پھر جائزہ میٹنگز اور ہدایات کا سہارا لے رہے ہیں۔ کیا یہ اضافی کوششیں شہر کی تقدیر بدل پائیں گی، یا مظفرپور کے شہری اسی طرح ادھورے منصوبوں کے درمیان زندگی گزارنے پر مجبور رہیں گے؟


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button