قومی خبریں

آسام میں یو سی سی بل پر سیاست گرم: اسد الدین اویسی نے حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا

آسام میں یکساں سول کوڈ کی گونج

آسام حکومت کی جانب سے اسمبلی میں پیش کیے گئے یکساں سول کوڈ (UCC) بل نے ملکی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس بل کے تحت ریاست میں شادی، طلاق، وراثت اور لیو ان ریلیشن شپ جیسے معاملات کے لیے ایک ہی قانونی ڈھانچہ نافذ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس اقدام کا مقصد تمام مذاہب کے درمیان صنفی انصاف اور قانونی یکسانیت کو یقینی بنانا ہے، تاہم اس پر اپوزیشن کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔

اویسی کا سخت موقف

اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے اس بل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے آئینی اور سماجی اصولوں کے منافی قرار دیا ہے۔ اویسی کا کہنا ہے کہ یہ نام نہاد یکساں قانون درحقیقت یکساں نہیں ہے، کیونکہ اس میں قبائلی برادریوں کو دائرہ کار سے باہر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر آئین کے آرٹیکل 29 کے تحت ہر برادری کو اپنی ثقافت کے تحفظ کا حق حاصل ہے، تو صرف قبائلیوں کو ہی اس استثنیٰ کا حق کیوں دیا جا رہا ہے؟

صنفی انصاف پر سوالات

اویسی نے اس بل کو صنفی انصاف کے دعووں سے کوسوں دور قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی قوانین میں وراثت کے واضح اصول موجود ہیں، جہاں کسی وارث کو اس کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ نیا قانون لوگوں کو اپنی وصیت کے ذریعے بیٹیوں کو جائیداد سے محروم کرنے کی راہ ہموار کر سکتا ہے، جو کہ انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔

بل کی اہم خصوصیات

  • ریاست میں شادی اور طلاق کی رجسٹریشن کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
  • شادی کے لیے مرد کی عمر 21 سال اور خاتون کی عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے۔
  • بل میں کثیر ازدواجی (ایک سے زیادہ شادی) پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
  • مختلف مذاہب کی روایتی شادیوں جیسے ویدک، نکاح، اور آنند کارج کو قانونی تحفظ دیا گیا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس بل کا مقصد مذہبی قوانین کی جگہ ایک ایسا نظام لانا ہے جو سب کے لیے برابر ہو، جبکہ ناقدین اسے ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت مسلط کیا جانے والا قانون قرار دے رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس بل پر ہونے والی بحث اور اس کے سماجی اثرات پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button