مقامی خبریں

پٹنہ میں طلبہ کا احتجاج دوسرے روز بھی جاری، پولیس کا لاٹھی چارج، بازار بند

بہار کی راجدھانی پٹنہ میں نیٹ امتحان میں مبینہ دھاندلی اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر طلبہ کا احتجاج دوسرے روز بھی شدت اختیار کر گیا۔ جمعرات کو پٹنہ کالج اور سائنس کالج کے قریب مظاہرہ کرنے والے طلبہ پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا، جس کے بعد شہر کے کئی علاقوں میں کشیدگی کے پیش نظر بازار بند کرا دیے گئے۔

بدھ کو دہلی سے شروع ہونے والا یہ احتجاج پٹنہ پہنچا تھا، جہاں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج، واٹر کینن اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ اس کے باوجود جمعرات کی صبح بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات سڑکوں پر نکل آئے۔

پٹنہ کالج کے قریب کشیدگی

جمعرات کی صبح سے ہی پٹنہ میں پولیس انتظامیہ الرٹ تھی۔ پٹنہ کالج کے قریب یونیورسٹی کے اساتذہ بھی اپنے مطالبات کے ساتھ مظاہرہ کرنے پہنچے، جس کے بعد طلبہ کی بڑی تعداد بھی وہاں جمع ہونا شروع ہو گئی۔ جب اساتذہ کا مارچ آگے بڑھنے لگا تو پولیس نے انہیں روک دیا۔ اساتذہ کچھ دیر بعد وہاں سے چلے گئے، لیکن طلبہ ڈٹے رہے۔

پٹنہ کالج کے قریب طلبہ کا مظاہرہ جب پرتشدد ہونے لگا تو پولیس نے ہلکا بل استعمال کیا۔ لاٹھی چارج کر کے انہیں منتشر کیا گیا اور کچھ طلبہ کو حراست میں بھی لے لیا گیا۔

سائنس کالج کے پاس بھی مظاہرہ

دوپہر میں پٹنہ سائنس کالج کے قریب بھی طلبہ و طالبات نے مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ طلبہ سڑک پر دھرنے پر بیٹھ گئے اور پولیس کی کوششوں کے باوجود ہٹنے کو تیار نہیں ہوئے۔ اس کے بعد پولیس نے لاٹھی چارج کر کے انہیں وہاں سے ہٹایا۔

بازاروں کی بندش سے مشکلات

طلبہ کے احتجاج کے پیش نظر پٹنہ میں کشیدگی کے خدشے کے تحت کئی بازار بند کرا دیے گئے۔ اشوک راج پتھ اور کنکن سنگھ لین سمیت دیگر علاقوں میں دکانوں کو احتیاطی تدابیر کے طور پر بند کر دیا گیا۔ اس سے تاجروں اور عام لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

بدھ کے روز کی جھڑپیں

اس سے قبل بدھ کو ہزاروں طلبہ سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ گاندھی میدان سے ڈاک بنگلہ چوراہا ہوتے ہوئے مظاہرین راج بھون روڈ تک پہنچ گئے تھے۔ اس دوران کئی بار پولیس اور نوجوانوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے لاٹھی چارج اور واٹر کینن کا استعمال کر کے انہیں منتشر کیا۔ شام میں ڈاک بنگلہ چوراہا پر صورتحال کشیدہ ہو گئی، جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔

کچھ شرپسند عناصر نے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا، جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس کے گولے، واٹر کینن اور لاٹھی چارج کا سہارا لے کر صورتحال کو قابو کیا۔ پورے دن کے ہنگامے میں کئی مظاہرین، پولیس اہلکار اور میڈیا کے نمائندے بھی زخمی ہوئے۔ مظاہرین نے پولیس اور انتظامیہ کی گاڑیوں میں توڑ پھوڑ بھی کی۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button