پرشاد ہسپتال آتشزدگی: کاغذی کارروائی میں سب درست، زمینی حقیقت میں تباہی
انتظامیہ اور فائر سیفٹی کے دعووں کی قلعی کھل گئی
مظفرپور کے پرشاد ہسپتال میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے نے نہ صرف ہسپتال انتظامیہ بلکہ محکمہ فائر بریگیڈ کی کارکردگی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ جس ہسپتال کو چند ماہ قبل ہی حفاظتی اقدامات مکمل ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا گیا تھا، وہاں آگ لگنے کے بعد امدادی ٹیموں کا پہنچنا ہی ایک بڑا چیلنج بن گیا۔
کاغذی رپورٹ بمقابلہ زمینی حقائق
دستاویزات کے مطابق، 17 جولائی 2025 کو محکمہ فائر بریگیڈ کے اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ آفیسر نے ہسپتال کا معائنہ کیا تھا۔ اس آڈٹ رپورٹ میں ہسپتال کی 20 میٹر اونچی عمارت کو مکمل طور پر محفوظ قرار دیا گیا تھا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ہسپتال میں آگ بجھانے کے جدید آلات موجود ہیں اور ہنگامی صورتحال میں تمام انتظامات فعال ہیں۔ اسی رپورٹ کی بنیاد پر ہسپتال کو 16 جولائی 2026 تک کے لیے فائر سیفٹی سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا تھا۔
کیا کیا گیا تھا دعویٰ؟
آڈٹ رپورٹ میں درج تفصیلات کے مطابق:
- ہسپتال میں خودکار اسپرنکلر سسٹم، اسوک ڈیٹیکٹر اور فائر الارم نصب بتائے گئے تھے۔
- الیکٹرک، ڈیزل اور جوکی پمپ سمیت تمام ہائیڈرولک آلات کو فعال قرار دیا گیا تھا۔
- بڑی تعداد میں پورٹیبل آگ بجھانے والے آلات (ABC اور CO2 سلنڈرز) کی موجودگی کی تصدیق کی گئی تھی۔
بڑا سوال: فائر بریگیڈ کی گاڑی اندر کیوں نہ جا سکی؟
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر ہسپتال میں تمام حفاظتی انتظامات موجود تھے، تو پھر آگ بجھانے والی بڑی گاڑی ہسپتال کے احاطے تک کیوں نہیں پہنچ سکی؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عمارت تک پہنچنے کا راستہ ہی درست نہیں تھا، تو پھر محکمہ فائر بریگیڈ نے کس بنیاد پر این او سی (NOC) جاری کی؟ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاغذی کارروائی اور زمینی حقائق میں زمین آسمان کا فرق ہے، جس کی قیمت مریضوں اور ان کے لواحقین کو چکانی پڑی۔ اب عوام مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس لاپرواہی کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور ان افسران کے خلاف کارروائی ہو جنہوں نے بغیر تصدیق کے حفاظتی سرٹیفکیٹ جاری کیے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔