مقامی خبریں

مظفرپور: گریجویشن طلباء کے لیے بڑی خوشخبری، اب انٹرن شپ کے لیے نہیں دینا ہوگا کوئی فیس

طلباء کے لیے بڑی راحت: انٹرن شپ اب مکمل طور پر مفت

مظفرپور سمیت پورے بہار کے چار سالہ انڈر گریجویٹ کورس کے طلباء کے لیے ایک اہم اور خوش آئند فیصلہ سامنے آیا ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کردہ نئی گائیڈ لائنز کے تحت، اب گریجویشن کے دوران لازمی انٹرن شپ کے لیے طلباء کو کسی بھی قسم کی فیس ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ یہ فیصلہ ان ہزاروں طلباء کے لیے بڑی راحت کا باعث ہے جو اپنی تعلیمی ڈگری کے دوران انٹرن شپ کے اخراجات کو لے کر پریشان تھے۔

نئی پالیسی کے اہم نکات

حکومت کی جانب سے جاری کردہ ‘انٹرن شپ گائیڈ لائن فار انڈر گریجویٹ پروگرامز’ کے مطابق، انٹرن شپ فراہم کرنے والے کسی بھی ادارے کو طلباء سے فیس وصول کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ تاہم، اگر کوئی ادارہ اپنی مرضی سے طلباء کو وظیفہ (اسٹائپنڈ) دینا چاہے، تو اس پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔

  • انٹرن شپ کا دورانیہ: طلباء کو کل 120 گھنٹے کی انٹرن شپ مکمل کرنی ہوگی۔ اس میں 90 گھنٹے متعلقہ ادارے میں عملی کام کے لیے اور 30 گھنٹے رپورٹ کی تیاری اور تشخیص کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
  • طریقہ کار: طلباء فزیکل موڈ کے ساتھ ساتھ ‘سوئم’ (SWAYAM) پلیٹ فارم کے ذریعے آن لائن انٹرن شپ بھی کر سکیں گے۔
  • ادارے: سرکاری محکمے، مقامی بلدیاتی ادارے، پنچایتیں، حکومتی امداد یافتہ خود مختار ادارے، لسٹڈ پرائیویٹ کمپنیاں اور معروف این جی اوز کو انٹرن شپ کے لیے ترجیح دی جائے گی۔

یونیورسٹیوں کی ذمہ داری

نئی گائیڈ لائنز کے مطابق، ہر کالج کو ایک انٹرن شپ سیل قائم کرنا ہوگا اور ایک نوڈل آفیسر کی تقرری لازمی ہوگی تاکہ طلباء کی نگرانی اور رہنمائی کی جا سکے۔ بی آر اے بہار یونیورسٹی (BRABU) میں پانچویں سمسٹر کے طلباء کے لیے یہ عمل اسی ماہ شروع ہونا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ نئی پالیسی کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنائے۔

اگر کوئی طالب علم پانچویں سمسٹر میں انٹرن شپ مکمل کرنے سے قاصر رہتا ہے، تو اسے چھٹے سمسٹر کے اختتام سے پہلے اسے لازمی طور پر مکمل کرنا ہوگا۔ اس اقدام سے نہ صرف طلباء پر مالی بوجھ کم ہوگا بلکہ تعلیمی معیار میں بھی بہتری آئے گی۔ اب یونیورسٹیوں کو پرانی فیسوں کے بجائے مفت انٹرن شپ کے ماڈل پر کام کرنا ہوگا، جس سے طلباء کے لیے عملی تجربہ حاصل کرنا مزید آسان ہو جائے گا۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button