مظفرپور کا پرشاد ہسپتال حادثہ: تین اموات پر وزیر کا سخت ردعمل، صحت نظام پر سوالیہ نشان
مظفرپور میں ہسپتال کا ہولناک واقعہ
مظفرپور کے پرشاد ہسپتال میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ہسپتال کے آئی سی یو (ICU) میں شارٹ سرکٹ کے باعث لگنے والی آگ نے تین مریضوں کی جان لے لی۔ اس حادثے کے وقت آئی سی یو میں تقریباً 13 سے 15 مریض زیر علاج تھے، جن میں سے کئی کی حالت پہلے ہی تشویشناک تھی۔
انتظامیہ کی غفلت اور افراتفری
آگ لگنے کے بعد ہسپتال میں دھواں بھر گیا، جس سے مریضوں کی حالت مزید بگڑ گئی۔ عینی شاہدین اور لواحقین کے مطابق، ہسپتال کا عملہ بروقت مدد کے بجائے وہاں سے غائب ہو گیا تھا۔ ایک تیماردار نے الزام لگایا کہ عملے نے مریضوں کو سیڑھیوں پر چھوڑ کر اپنی جان بچانا بہتر سمجھا۔ جب لواحقین وہاں پہنچے تو انہیں خود ٹارچ کی روشنی میں اپنے پیاروں کو تلاش کرنا پڑا۔ اس دوران آکسیجن کی شدید قلت نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔
وزیر کی برہمی اور سخت انتباہ
اس واقعے پر ریاستی وزیر رام کرپال یادو نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے شہر میں جگہ جگہ کھلنے والے نجی ہسپتالوں کے معیار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ ہسپتال ‘کُکرمتوں’ کی طرح اُگ آئے ہیں، جہاں طبی معیارات کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جو ہسپتال حفاظتی ضوابط پر پورا نہیں اترتے، انہیں فوری طور پر بند کر دیا جانا چاہیے۔ وزیر نے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
مستقبل کے لیے سوال
یہ حادثہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ صحت کے شعبے میں لاپرواہی کتنی مہنگی پڑ سکتی ہے۔ فائر بریگیڈ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے باقی مریضوں کو دوسرے ہسپتالوں میں منتقل کیا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا نجی ہسپتالوں میں مریضوں کی زندگیوں کی حفاظت کے لیے کوئی ٹھوس میکانزم موجود ہے؟ کیا انتظامیہ اب جاگ کر ایسے ہسپتالوں کے خلاف کارروائی کرے گی جو انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں؟
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
