مظفرپور: پانچ سالہ محبت کا دردناک انجام، شادی سے انکار پر خودکشی کی کوشش کرنے والی لڑکی کی جان بچائی گئی
محبت، دھوکہ اور پھر زندگی ختم کرنے کا فیصلہ
مظفرپور کے قاضی محمد پور تھانہ علاقے میں پیش آنے والا ایک واقعہ انسانی رشتوں کی تلخ حقیقت کو بیان کر رہا ہے۔ پانچ سال تک پروان چڑھنے والی ایک محبت اس وقت دم توڑ گئی جب شادی کے عین موقع پر لڑکے والوں نے جہیز کی مانگ کر کے رشتہ توڑ دیا۔ اس صدمے سے نڈھال ایک لڑکی نے اپنی زندگی ختم کرنے کے لیے ریلوے ٹریک کا رخ کیا، تاہم بروقت کارروائی نے اسے موت کے منہ سے نکال لیا۔
فیس بک سے شروع ہوئی کہانی
متاثرہ لڑکی کا تعلق منیاری علاقے سے ہے۔ پانچ سال قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک کے ذریعے اس کی ملاقات ایک نوجوان سے ہوئی، جو جلد ہی گہری دوستی اور پھر محبت میں بدل گئی۔ دونوں نے طویل عرصے تک اپنے اس رشتے کو گھر والوں سے چھپائے رکھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب بھی لڑکی کے گھر والے اس کا رشتہ کہیں اور طے کرنے کی کوشش کرتے، تو یہ نوجوان کسی نہ کسی طرح اس رشتے کو تڑوا دیتا تھا، جس سے لڑکی کا اس پر اعتماد مزید پختہ ہو گیا۔
سگائی کے بعد جہیز کا مطالبہ
بالآخر لڑکی نے اپنے گھر والوں کو اس رشتے کے بارے میں بتایا اور اسی نوجوان سے شادی کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ دونوں خاندانوں نے رضامندی ظاہر کی اور 29 جون کو ان کی سگائی بھی ہو گئی۔ لیکن سگائی کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی۔ لڑکے اور اس کے اہل خانہ نے جہیز کا مطالبہ شروع کر دیا، اور جب یہ مطالبہ پورا نہ ہو سکا تو انہوں نے شادی کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ سماجی سطح پر کئی بار پنچایت اور سمجھوتے کی کوششیں کی گئیں، لیکن لڑکے کا رویہ نہیں بدلا۔
پولیس کی بروقت کارروائی
ذہنی اور جذباتی طور پر ٹوٹ چکی لڑکی جمعہ کے روز رام دیالو ریلوے گمٹی کے قریب پٹری پر پہنچ گئی۔ وہاں موجود مقامی لوگوں نے فوری طور پر ڈائل 112 کو اطلاع دی۔ پولیس ٹیم نے موقع پر پہنچ کر لڑکی کو بحفاظت پٹری سے ہٹایا اور اس کی جان بچائی۔ پولیس نے لڑکی کو سمجھا بجھا کر اس کے اہل خانہ کے حوالے کر دیا ہے اور اسے ماہرین سے کونسلنگ کروانے کا مشورہ دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی تفتیش کی جا رہی ہے اور حقائق کی بنیاد پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔ یہ واقعہ سماج میں جہیز کی لعنت اور جذباتی استحصال کے سنگین نتائج کی عکاسی کرتا ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
