مظفرپور: میونسپل ملازمین کا احتجاج، 30 جولائی سے شہر میں خدمات ٹھپ ہونے کا خدشہ
میونسپل کارپوریشن کے ملازمین کا مطالبہ، حکومت کی خاموشی پر برہمی
مظفرپور میونسپل کارپوریشن کے ملازمین نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے سخت موقف اختیار کر لیا ہے۔ اتوار سے کارپوریشن دفتر کے احاطے میں دو روزہ دھرنے کا آغاز کیا جا رہا ہے، جس کے بعد 30 جولائی سے ریاست بھر کے شہری بلدیاتی اداروں کے ساتھ مل کر مظفرپور کے ملازمین بھی غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال پر چلے جائیں گے۔ اس فیصلے سے شہر کی صفائی اور دیگر بنیادی خدمات کے متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
مطالبات کی طویل فہرست
بہار لوکل باڈیز ایمپلائز فیڈریشن کی جانب سے منعقدہ ایک اہم اجلاس میں اس تحریک کا خاکہ تیار کیا گیا۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ حکومت اور محکمہ شہری ترقیات کے ساتھ ماضی میں کیے گئے معاہدوں پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا ہے۔ فیڈریشن نے ایک ماہ قبل ہی حکومت کو اپنے مطالبات سے آگاہ کر دیا تھا، لیکن کوئی پیش رفت نہ ہونے پر ملازمین نے سڑکوں پر اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔
- تمام یومیہ اجرت پر کام کرنے والے اور کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیا جائے۔
- ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ کر کے آؤٹ سورسنگ کے ذریعے کام کرنے والے عملے کو باقاعدہ میونسپل ملازم کا درجہ دیا جائے۔
- ساتویں پے کمیشن کے تحت واجب الادا بقایاجات کی فوری ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔
ریٹائرڈ ملازمین کی مشکلات
احتجاجی رہنماؤں نے نشاندہی کی کہ ریٹائرڈ ملازمین کو ساتویں پے کمیشن کے بقایاجات نہ ملنے کی وجہ سے شدید معاشی اور ذہنی اذیت کا سامنا ہے۔ یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ بقایاجات کی ادائیگی کے عوض مبینہ طور پر رشوت طلب کی جا رہی ہے، جس سے ملازمین میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
آئندہ کا لائحہ عمل
مظفرپور میونسپل کارپوریشن کے ملازمین کی مشترکہ جدوجہد کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات پر فوری توجہ نہ دی تو دھرنے اور ہڑتال کے بعد غیر معینہ مدت کے لیے بھوک ہڑتال کا راستہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔ شہر کے باشندوں کے لیے یہ صورتحال تشویشناک ہے کیونکہ ہڑتال کی صورت میں شہر کا نظام بری طرح درہم برہم ہو سکتا ہے۔ فی الحال انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے پر کوئی ٹھوس ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔