مقامی خبریں

مظفرپور: سٹینک بگ اور ژالہ باری نے توڑی لیچی کسانوں کی کمر، لاکھوں کا قرض اور بربادی کا عالم

لیچی کے باغات میں تباہی کا منظر

مظفرپور کے لیچی کسانوں کے لیے رواں سیزن ایک بھیانک خواب کی طرح ثابت ہوا ہے۔ موسم کی بے رخی اور ‘سٹینک بگ’ نامی کیڑے کے حملے نے ضلع بھر میں لیچی کی تقریباً 70 فیصد فصل کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ اس قدرتی آفت نے کسانوں کی معاشی بنیادیں ہلا دی ہیں، جس کے نتیجے میں کئی کسان اب بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔

قرض لے کر لگائی تھی امیدیں

میناپور کے مانکپور گاؤں کے نوجوان کسان دیپک کشواہا کی کہانی اس تباہی کی عکاس ہے۔ دیپک نے بڑی امیدوں کے ساتھ 30 لاکھ روپے کا قرض لے کر لیچی کا باغ خریدا تھا، لیکن سٹینک بگ اور بعد ازاں شدید ژالہ باری نے ان کی ساری محنت پر پانی پھیر دیا۔ دیپک کا کہنا ہے کہ 2019 سے وہ اس کاروبار سے وابستہ ہیں، لیکن ایسی صورتحال کبھی نہیں دیکھی۔ حتیٰ کہ 2023 میں مرچنٹ نیوی میں نوکری ملنے کے باوجود انہوں نے اپنے خاندانی پیشے کو ترجیح دی، مگر آج وہ 25 لاکھ روپے کے نقصان کا سامنا کر رہے ہیں۔

شادی کے خواب اور خالی ہاتھ

صرف دیپک ہی نہیں، بلکہ شہزپور کوٹھی کے کسان نیرج کمار سنگھ کا حال بھی کچھ مختلف نہیں ہے۔ نیرج نے اپنی بھانجی کی شادی کے اخراجات پورے کرنے کے لیے لیچی کی فصل پر انحصار کیا تھا۔ سیزن کے آغاز میں انہیں فصل کے بدلے چار لاکھ روپے کی پیشکش ہوئی تھی، لیکن بہتر منافع کی امید میں انہوں نے سودا نہیں کیا۔ قدرت کا قہر ایسا برپا ہوا کہ اب ان کے پاس اپنے رشتہ داروں کو بھیجنے کے لیے لیچی کا ایک دانہ بھی نہیں بچا۔

فصل بیمہ کا دیرینہ مطالبہ

متاثرہ کسانوں کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ حکومت لیچی کی فصل کے لیے خصوصی بیمہ اسکیم کا آغاز کرے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر کے سی سی (KCC) لون پر بیمہ کی سہولت میسر ہوتی، تو آج انہیں اس قدر معاشی بحران کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ حکومت کی جانب سے اس جانب عدم توجہی نے کسانوں کو مایوسی کی گہری کھائی میں دھکیل دیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا انتظامیہ ان تباہ حال کسانوں کی مدد کے لیے کوئی ٹھوس قدم اٹھائے گی؟


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button