مقامی خبریں

مظفرپور: ساہب گنج میں کشتی الٹنے سے ایک نوجوان لاپتہ، دس افراد کو بچا لیا گیا

مظفرپور کے ساہب گنج میں کشتی حادثہ: ایک نوجوان لاپتہ، دس افراد محفوظ

مظفرپور کے ساہب گنج بلاک میں جمعہ کی شام ایک دلخراش واقعہ پیش آیا جب مادھوپور ہزاری پنچایت کے وارڈ نمبر چھ میں ایک کشتی الٹ گئی۔ اس حادثے میں کشتی پر سوار گیارہ افراد میں سے دس کو بچا لیا گیا ہے، جبکہ بائیس سالہ راجو کمار نامی نوجوان تاحال لاپتہ ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب لوگ اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔

مقامی ذرائع کے مطابق، کشتی میں اس کی گنجائش سے زیادہ افراد سوار تھے، جس کی وجہ سے توازن بگڑ گیا اور کشتی پانی میں الٹ گئی۔ حادثے کے فوراً بعد علاقے میں افراتفری پھیل گئی، لیکن مقامی دیہاتیوں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ مقامی غوطہ خوروں کی مدد سے دس افراد کو بحفاظت پانی سے نکال لیا گیا۔ بچائے گئے افراد میں خواتین، بچے اور مرد شامل ہیں جنہیں فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق، تمام بچائے گئے افراد کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

لاپتہ نوجوان کی شناخت لال بابو رائے کے بیٹے راجو کمار کے طور پر ہوئی ہے، جو اسی گاؤں کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔ حادثے کے بعد سے اس کی تلاش جاری ہے۔ مقامی مکھیا بیدیا ناتھ رائے نے بتایا کہ شام کے وقت پیش آنے والے اس حادثے میں گیارہ افراد سوار تھے جو اپنے گھروں کو جا رہے تھے۔ انہوں نے دیہاتیوں کی فوری مدد کو سراہا جس کی وجہ سے دس جانیں بچائی جا سکیں۔

ساہب گنج تھانے کے انچارج سنیل کمار نے بھی حادثے کی تصدیق کی اور بتایا کہ کشتی میں گیارہ افراد سوار تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دس افراد کو بچا لیا گیا ہے اور ایک نوجوان کی تلاش جاری ہے۔ پولیس اور انتظامیہ کو بھی اس واقعے کی اطلاع دے دی گئی ہے اور وہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کشتی میں زیادہ افراد کے سوار ہونے کی وجہ سے توازن بگڑ گیا تھا۔ تاہم، حادثے کی مکمل وجوہات کا تعین تفصیلی تحقیقات کے بعد ہی ہو سکے گا۔ فی الحال، لاپتہ نوجوان کی تلاش کے لیے مقامی سطح پر کوششیں جاری ہیں اور انتظامیہ بھی اس میں شامل ہے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر دریاؤں میں سفر کے دوران احتیاطی تدابیر کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button