مقامی خبریں

مظفرپور: زچگی کے اگلے ہی روز خاتون کی موت، لواحقین کا ڈاکٹر پر لاپرواہی کا الزام

مظفرپور میں زچگی کے بعد خاتون کی پراسرار موت، لواحقین کا احتجاج

مظفرپور میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا ہے جہاں زچگی کے محض ایک دن بعد ایک خاتون کی موت واقع ہو گئی، جس کے بعد لواحقین نے ہسپتال میں شدید احتجاج کیا۔ لواحقین نے ڈاکٹروں پر سنگین لاپرواہی کا الزام عائد کیا ہے اور انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ واقعہ شہر کے طبی نظام پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے اور مریضوں کی حفاظت کے حوالے سے تشویش کو جنم دیتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، خاتون کو زچگی کے لیے ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ زچگی کا عمل کامیابی سے مکمل ہو گیا تھا اور لواحقین خوش تھے۔ تاہم، اگلے ہی روز خاتون کی صحت اچانک بگڑ گئی اور وہ جانبر نہ ہو سکیں۔ اس غیر متوقع موت نے لواحقین کو صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زچگی کے بعد خاتون کی حالت مستحکم تھی اور انہیں کسی قسم کی پیچیدگی کی توقع نہیں تھی۔

خاتون کی موت کی خبر سنتے ہی لواحقین غم و غصے کی حالت میں ہسپتال پہنچے اور متوفیہ کا جسد خاکی لے کر ہسپتال کے سامنے احتجاج شروع کر دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ڈاکٹروں نے زچگی کے بعد خاتون کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی اور ان کی حالت بگڑنے پر بروقت طبی امداد فراہم نہیں کی گئی۔ لواحقین کا دعویٰ ہے کہ ڈاکٹروں کی غفلت اور لاپرواہی ہی خاتون کی موت کا سبب بنی ہے۔

احتجاج کے دوران لواحقین نے ہسپتال انتظامیہ سے جواب طلبی کی اور ذمہ دار ڈاکٹروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک انہیں انصاف نہیں ملتا، وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ اس واقعے نے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے اور لوگ طبی لاپرواہی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم، مقامی پولیس کو اطلاع دی گئی ہے اور وہ صورتحال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لواحقین نے اعلیٰ حکام سے اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر طبی شعبے میں احتساب کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button