مظفرپور: دن دہاڑے جیولری کی دکان میں لوٹ مار، فائرنگ کے باوجود ایک لٹیرا پکڑا گیا
مظفرپور کے کانٹی علاقے میں واقع عامرپالی جیولرز میں جمعہ کی دوپہر مسلح لٹیروں نے دن دہاڑے لاکھوں روپے کے زیورات لوٹ لیے۔ اس واردات کے دوران لٹیروں نے کئی راؤنڈ فائرنگ بھی کی، تاہم دکان کے مالک کی بہادری اور مقامی لوگوں کی مدد سے ایک لٹیرے کو پکڑ لیا گیا۔
واردات کی تفصیلات
جمعہ کی دوپہر تقریباً ساڑھے تین بجے، دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار مسلح لٹیرے دامودرپور میں واقع عامرپالی جیولرز میں داخل ہوئے۔ پستول کی نوک پر انہوں نے دکان کے عملے اور وہاں موجود گاہکوں کو یرغمال بنا لیا اور لوٹ مار شروع کر دی۔ لٹیروں نے دکان سے نقد رقم کے علاوہ سونے اور چاندی کے قیمتی زیورات لوٹ لیے۔ اس دوران انہوں نے گاہکوں سے بھی نقدی اور دیگر سامان چھین لیا۔
دکاندار کی بہادری اور لٹیرے کا پکڑا جانا
لوٹ مار کے بعد جب لٹیرے فرار ہونے لگے تو دکان کے مالک دھرمیندر صراف نے کمال بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک لٹیرے کو دبوچ لیا۔ اپنے ساتھی کو چھڑانے کی کوشش میں ایک دوسرے لٹیرے نے پستول کے بٹ سے دھرمیندر صراف کے سر پر وار کیا، جس سے وہ لہولہان ہو گئے۔ زخمی ہونے کے باوجود دھرمیندر صراف نے لٹیرے کو نہیں چھوڑا اور اس سے مقابلہ جاری رکھا۔
فائرنگ اور افراتفری
ساتھی کو چھڑانے کے لیے لٹیروں نے تقریباً آدھا درجن راؤنڈ فائرنگ کی، جس سے علاقے میں افراتفری پھیل گئی۔ فائرنگ کی آواز سن کر اور ہنگامہ دیکھ کر مقامی لوگوں کی بڑی تعداد موقع پر جمع ہو گئی۔ بھیڑ کو اپنی طرف آتا دیکھ کر لٹیرے اپنے پکڑے گئے ساتھی کو چھوڑ کر مغربی سمت فرار ہو گئے۔
پولیس کی کارروائی
مقامی لوگوں نے پکڑے گئے لٹیرے کی خوب پٹائی کی اور پھر اسے پولیس کے حوالے کر دیا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی دیہی ایس پی راجیش کمار سنگھ پربھاکر، ایس ڈی پی او مغربی-ون سوچترا کماری اور تھانیدار رویکانت پاٹھک موقع پر پہنچے اور معاملے کی چھان بین شروع کی۔ پکڑے گئے لٹیرے کا پولیس کی نگرانی میں علاج جاری ہے۔ پولیس دکان اور آس پاس لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کھنگال رہی ہے اور کئی ٹیمیں تشکیل دے کر چھاپے مار کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
