مقامی خبریں

مظفرپور: باگمتی ندی میں کشتی الٹنے سے پندرہ سالہ لڑکی لاپتہ، چودہ افراد کو بچا لیا گیا

مظفرپور کے اورائی میں دلخراش واقعہ

مظفرپور کے اورائی تھانہ علاقے میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا جہاں باگمتی ندی میں مویشیوں کا چارہ لانے والی ایک کشتی الٹ گئی۔ اس حادثے میں کشتی پر سوار پندرہ افراد میں سے چودہ کو بحفاظت نکال لیا گیا، تاہم پندرہ سالہ رانی کماری نامی لڑکی لاپتہ ہو گئی ہے۔ یہ واقعہ جمعہ کے روز پیش آیا جس کے بعد علاقے میں افراتفری اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

یہ حادثہ مہیشوارہ پنچایت کے دیورا دھرم پور گاؤں کے قریب پیش آیا۔ مقامی کسان باگمتی بند کے اندر اپنے مویشیوں کے لیے چارہ لانے کے لیے اکثر کشتیوں کا استعمال کرتے ہیں۔ جمعہ کو بھی اسی طرح کچھ کسان چارہ لانے کے لیے ندی پار کر رہے تھے کہ اچانک ان کی کشتی ندی میں ڈوب گئی۔ کشتی کے الٹتے ہی اس پر سوار افراد میں چیخ و پکار مچ گئی، اور چودہ افراد کسی طرح تیر کر یا دوسروں کی مدد سے محفوظ مقام پر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

لاپتہ لڑکی کی تلاش جاری

مہیشوارہ پنچایت کے مکھیا رام سوارتھ رام نے بتایا کہ کشتی پر سوار تقریباً تمام افراد محفوظ ہیں، لیکن ہوریل پاسوان کی پندرہ سالہ بیٹی رانی کماری کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ اس واقعے کی اطلاع فوری طور پر انتظامیہ کو دی گئی ہے اور مقامی سطح پر لڑکی کی تلاش کے لیے کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی انتظامیہ کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی ہے۔ لاپتہ لڑکی کی تلاش کے لیے این ڈی آر ایف کی ٹیم کو بلانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ جائے حادثہ پر مقامی لوگوں کا ہجوم جمع ہو گیا ہے، اور لڑکی کے لاپتہ ہونے کی خبر سے اس کے اہل خانہ اور گاؤں والوں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے ندی میں وسیع پیمانے پر تلاش کا کام شروع کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

حادثے کی وجوہات

بتایا جاتا ہے کہ باگمتی بند کے اندر بڑی تعداد میں مویشی پال کسان اپنے جانوروں کے لیے چارہ لانے جاتے ہیں اور اس کے لیے وہ کشتیوں کا استعمال کرتے ہیں۔ جمعہ کو بھی کسان چارہ لانے کے لیے کشتی سے ندی میں گئے تھے کہ یہ افسوسناک حادثہ پیش آ گیا۔ فی الحال، انتظامیہ اور مقامی لوگ لاپتہ لڑکی کی تلاش میں مصروف ہیں اور حادثے میں کشتی کے ڈوبنے کی وجوہات کا بھی پتہ لگایا جا رہا ہے۔ اس واقعے نے علاقے میں حفاظتی اقدامات کی ضرورت کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button