مقامی خبریں

مظفرپور: بارش سے آلو اور سرسوں کی بوائی کی امید، مگر کھارے پانی کا دیرینہ مسئلہ برقرار

مظفرپور کے بلدیو علاقے میں حالیہ بارش نے کسانوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دی ہے۔ اس بارش سے نہ صرف گرمی اور حبس سے راحت ملی بلکہ کھیتوں میں نمی آنے سے آلو اور سرسوں کی بوائی کے لیے سازگار حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت بارش نہ ہوتی تو کھارے پانی کی وجہ سے فصلوں کی آبپاشی مشکل ہو جاتی اور پیداوار پر بھی منفی اثر پڑتا۔

کھارے پانی کا پچاس سالہ پرانا مسئلہ

بلدیو بلاک کی گرام پنچایت جگدیش پور کے مظفرپور گاؤں کے مکین گزشتہ تقریباً 50 سال سے کھارے پانی کے مسئلے سے دوچار ہیں۔ گاؤں والوں کے مطابق، یہاں پینے کے لیے بھی میٹھا پانی دستیاب نہیں ہے اور کھیتی باڑی کے لیے بھی انہیں کھارے پانی پر ہی انحصار کرنا پڑتا ہے۔ کھارے پانی کی وجہ سے کسان سال میں بمشکل ایک ہی فصل اگا پاتے ہیں، جس سے ان کی آمدنی انتہائی کم ہے اور خاندان کی کفالت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

انتخابی وعدے اور زمینی حقیقت

مقامی افراد کا الزام ہے کہ انتخابات کے دوران رہنما ووٹ مانگنے کے لیے گاؤں آتے ہیں، لیکن انتخابات کے بعد گاؤں کے مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سرکاری اہلکار دفاتر میں بیٹھ کر صرف کاغذی رپورٹیں تیار کرتے ہیں، جبکہ زمینی سطح پر مسائل جوں کے توں برقرار ہیں۔

کسانوں کا مطالبہ: نہر یا سرکاری ٹیوب ویل

گاؤں کے ایک کسان، بھگوان سنگھ نے بتایا کہ مظفرپور میں زیادہ تر کسان چھوٹے اور سیما نت ہیں، اور کھارے پانی کی وجہ سے ان کی زراعت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گاؤں تک نہر لائی جائے یا جہاں میٹھا پانی دستیاب ہے، وہاں سے سرکاری ٹیوب ویل لگوا کر میٹھے پانی کا انتظام کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ آبپاشی کے لیے میٹھا پانی ملنے سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا اور گاؤں کی ترقی بھی ممکن ہو سکے گی۔

پینے اور آبپاشی کے پانی کا مستقل حل

گاؤں والوں نے انتظامیہ سے پینے کے پانی اور آبپاشی کے مسئلے کا مستقل حل فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس موقع پر ٹھاکر بنی سنگھ، دگمبر سنگھ، بھوپندر، یوگندر، سنجو، راجندر سنگھ، سریندر سنگھ سمیت کئی دیگر دیہی موجود تھے۔ یہ مسئلہ صرف زراعت تک محدود نہیں بلکہ گاؤں کی مجموعی معیشت اور رہائشیوں کی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button