مقامی خبریں

مظفرپور: این ٹی پی سی ڈیم میں نہاتے ہوئے تین بچوں کی ڈوب کر موت، ایک کی جان بچ گئی

مظفرپور میں غم کا ماحول

مظفرپور کے کانٹی تھانہ علاقہ میں واقع این ٹی پی سی ڈیم میں پیش آئے ایک المناک حادثے نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے۔ اس افسوسناک واقعے میں تین کمسن بچوں کی ڈوبنے سے موت ہو گئی، جبکہ ایک بچہ معجزانہ طور پر بچ گیا۔ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب اسکول سے واپسی کے بعد چاروں دوست ایک ساتھ ڈیم پر نہانے کے لیے گئے تھے۔

حادثہ کیسے پیش آیا؟

مقامی ذرائع کے مطابق، چاروں بچے اسکول سے گھر لوٹنے کے بعد تفریح کے لیے ڈیم کے کنارے پہنچے تھے۔ نہانے کے دوران اچانک ان میں سے تین کا پیر پھسل گیا اور وہ گہرے پانی میں جا گرے۔ چونکہ بچوں کو تیرنا نہیں آتا تھا، اس لیے وہ پانی کی گہرائی سے باہر نہیں نکل سکے۔ چوتھا بچہ، جس کی شناخت پنٹو کمار کے طور پر ہوئی ہے، کسی طرح کنارے تک پہنچنے میں کامیاب رہا اور اس نے شور مچا کر آس پاس کے لوگوں کو مدد کے لیے پکارا۔

بچاؤ کی کوششیں اور ہسپتال منتقلی

شور سنتے ہی مقامی دیہاتی اور غوطہ خور فوراً جائے وقوعہ پر پہنچے اور پانی میں چھلانگ لگا کر بچوں کو تلاش کرنا شروع کیا۔ کافی جدوجہد کے بعد تینوں بچوں کو پانی سے باہر نکالا گیا، لیکن تب تک ان کی حالت انتہائی نازک ہو چکی تھی۔ انہیں فوری طور پر سری کرشنا میڈیکل کالج اینڈ ہسپتال (ایس کے ایم سی ایچ) لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے طبی معائنے کے بعد انہیں مردہ قرار دے دیا۔

سوگوار خاندان اور انتظامیہ کی ذمہ داری

مرنے والے بچوں کی شناخت 12 سالہ آربھ کمار، 10 سالہ آیوش کمار اور 12 سالہ دیناناتھ کمار کے طور پر ہوئی ہے۔ یہ تینوں بچے مزدور طبقے سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے والدین انتہائی صدمے کی حالت میں ہیں۔ کانٹی پولیس نے لاشوں کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے اور معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیم کے ارد گرد حفاظتی انتظامات سخت کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے دردناک حادثات کو روکا جا سکے۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button