مظفرپور: اساتذہ پر تشدد کے خلاف نجی تعلیمی ادارے بند، سڑکوں پر احتجاجی مارچ
مظفرپور میں ایک استاد کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور مار پیٹ کے خلاف ضلع بھر کے نجی اسکولوں اور کوچنگ سینٹرز میں بدھ کے روز تدریسی سرگرمیاں معطل رہیں۔ اساتذہ کے احترام اور تحفظ کے مطالبے کے ساتھ ایک بڑا احتجاجی مارچ بھی نکالا گیا، جس میں تعلیمی برادری کے ساتھ ساتھ طلباء کے والدین کی بھی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
یہ احتجاجی ہڑتال انڈین ایسوسی ایشن آف اسکولز کی کال پر کی گئی تھی، جس میں میہناپور کے ایک اسکول میں پیش آنے والے واقعے کے خلاف آواز اٹھائی گئی۔ ایسوسی ایشن کے نائب صدر راکیش سمراٹ نے دعویٰ کیا کہ ضلع کے تقریباً 99 فیصد نجی تعلیمی اداروں نے اس بند کی حمایت کی۔ انہوں نے اس واقعے کو محض ایک فرد کے ساتھ ناانصافی نہیں بلکہ اساتذہ کے مجموعی وقار اور احترام پر حملہ قرار دیا۔
احتجاجی مارچ میہناپور سے شروع ہوا اور اس میں مظفرپور شہر کے علاوہ اورائی، بوچاہاں، گائے گھاٹ، پارو، سریا، مڑوان، سکرا اور کڑھنی سمیت مختلف بلاکس کے اسکول ڈائریکٹرز، پرنسپلز اور اساتذہ نے حصہ لیا۔ مارچ میں شامل والدین نے اساتذہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر والدین اسکولوں اور اساتذہ کے ساتھ تعاون پر مبنی رویہ رکھتے ہیں، اور چند افراد کی بد نظمی کی وجہ سے تمام والدین یا طلباء کو غلط نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ایسوسی ایشن نے بھی والدین سے اپیل کی کہ کسی بھی شکایت کی صورت میں اسکول انتظامیہ یا متعلقہ حکام سے رجوع کریں۔
راکیش سمراٹ نے مزید کہا کہ تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے اساتذہ، طلباء، والدین اور اسکول انتظامیہ کے درمیان باہمی احترام اور اعتماد کا رشتہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اساتذہ کے ساتھ مار پیٹ یا بدسلوکی کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہونی چاہیے۔ ایسوسی ایشن نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ایسے واقعات میں غیر جانبدارانہ کارروائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ اساتذہ کو ایک محفوظ اور باوقار ماحول فراہم کیا جا سکے۔ اساتذہ برادری نے امید ظاہر کی کہ ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔