مظفر پور نگر نگم: وجیندر چودھری کا دبدبہ، بااثر ‘سشکت ستھائی سمیتی’ پر مخالفین کا قبضہ
سیاسی ہلچل: نگر نگم کی اہم ترین کمیٹی کے انتخابات میں بڑا الٹ پھیر
مظفر پور نگر نگم کی سشکت ستھائی سمیتی کے حالیہ انتخابات نے شہر کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس انتخاب میں سابق رکن اسمبلی اور کانگریس لیڈر وجیندر چودھری کے حمایت یافتہ امیدواروں نے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے کمیٹی کی تمام سات نشستوں پر اپنا تسلط قائم کر لیا ہے۔ یہ نتیجہ اس لحاظ سے انتہائی اہم ہے کہ شہر میں میئر اور مقامی رکن اسمبلی دونوں کا تعلق بی جے پی سے ہے، اس کے باوجود بی جے پی کے حمایت یافتہ امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
کون جیتا، کون ہارا؟
انتخابات کے نتائج کے مطابق، کئی اہم وارڈ کونسلروں نے اپنی پوزیشن مستحکم رکھی ہے:
- وارڈ نمبر 28 کے کونسلر راجیو کمار پنکو نے کے پی پپو کو شکست دے کر بڑی کامیابی حاصل کی۔
- وارڈ نمبر 10 کے ابھیمنیو چوہان نے اجے اوجھا کو ہرا کر اپنی نشست برقرار رکھی۔
- وارڈ نمبر 14 کے امت رنجن اور وارڈ نمبر 40 کے محمد اقبال حسن نے بھی اپنی جیت کا تسلسل برقرار رکھا۔
- وارڈ نمبر 42 کی ارچنا پنڈت نے پہلی بار اس کمیٹی میں جگہ بنائی، جو کہ اس انتخاب کا ایک بڑا سرپرائز مانا جا رہا ہے۔
- منور حسین نے بھی کامیابی حاصل کر کے وجیندر چودھری کے خیمے کو مزید مضبوط کیا۔
انتخابی عمل صبح 8 بجے شروع ہوا اور دوپہر 3 بجے تک جاری رہنے والی اس کشمکش کے بعد نتائج سامنے آئے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگرچہ کچھ فاتح کونسلر سابق وزیر سریش شرما کے قریبی سمجھے جاتے تھے، لیکن اس بار انہوں نے وجیندر چودھری کی حکمت عملی کے ساتھ چلنے کو ترجیح دی۔
سشکت ستھائی سمیتی کیوں اہم ہے؟
نگر نگم کی یہ کمیٹی شہر کے انتظامی اور مالی فیصلوں کا مرکز ہے۔ بجٹ کی منظوری، ترقیاتی منصوبوں کی منصوبہ بندی اور اہم انتظامی امور میں اس کمیٹی کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے۔ اب جبکہ اس کمیٹی پر وجیندر چودھری کے حمایت یافتہ اراکین کا غلبہ ہے، تو یہ طے ہے کہ آنے والے دنوں میں مظفر پور کے ترقیاتی کاموں اور نگر نگم کی پالیسیوں پر ان کا اثر واضح طور پر نظر آئے گا۔ یہ شکست بی جے پی کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا ہے، جبکہ وجیندر چودھری کے لیے یہ ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔