شمالی بھارت میں شدید گرمی کا قہر: درجہ حرارت 47 ڈگری تک پہنچنے کا خدشہ، الرٹ جاری
شمالی اور مغربی بھارت میں سورج کا قہر
شمالی اور مغربی بھارت کے بیشتر حصوں میں شدید گرمی اور چلچلاتی دھوپ نے معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے باعث عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں اور محکمہ موسمیات نے آنے والے دنوں میں صورتحال مزید سنگین ہونے کی تنبیہ کی ہے۔
درجہ حرارت کا نیا ریکارڈ
دارالحکومت دہلی سمیت اتر پردیش، مدھیہ پردیش، پنجاب اور ہریانہ کے کئی علاقوں میں پارہ 44 ڈگری سیلسیس کو عبور کر چکا ہے۔ دہلی کے صفدرجنگ علاقے میں مئی کے مہینے میں گزشتہ دو سالوں کا سب سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تھار کے صحرا سے آنے والی خشک اور گرم ہواؤں کے سبب درجہ حرارت میں مزید 2 سے 3 ڈگری کا اضافہ متوقع ہے، جس سے پارہ 47 ڈگری تک پہنچ سکتا ہے۔
جانوروں اور پرندوں پر اثرات
اس شدید گرمی کا اثر صرف انسانوں تک محدود نہیں ہے بلکہ بے زبان جانور اور پرندے بھی اس کی زد میں ہیں۔ دہلی میں پانی کی کمی اور ہیٹ اسٹروک کے باعث پرندوں کے آسمان سے گرنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ سڑکوں کے کنارے جانوروں کے بے ہوش ہونے اور پیٹ کے انفیکشن میں اضافے کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں، جو تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتی ہیں۔
صحت عامہ پر اثرات اور حکومتی اقدامات
ہسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک، سر درد، پانی کی کمی اور آنکھوں میں جلن کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ پنجاب کے ہسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک یونٹس پر دباؤ بڑھ گیا ہے اور طبی سہولیات کی فراہمی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ تلنگانہ میں گرمی کی لہر کے باعث 16 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد انتظامیہ نے پانی اور او آر ایس پیکٹس کی تقسیم کا عمل تیز کر دیا ہے۔
موسمیاتی الرٹ
محکمہ موسمیات نے ہماچل پردیش، شملہ اور جھارکھنڈ کے کئی اضلاع کے لیے ہیٹ ویو کا الرٹ جاری کیا ہے۔ فی الحال بارش کا کوئی امکان نہیں ہے، جس کی وجہ سے گرمی کی شدت میں کمی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ دوپہر کے وقت گھروں سے نکلنے سے گریز کریں اور اپنی صحت کا خاص خیال رکھیں۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
