جنم اشٹمی پر مظفرپور کے ہسپتالوں میں 55 بچوں کی پیدائش، خاندانوں میں خوشی کی لہر
مظفرپور: اس سال جنم اشٹمی کا تہوار مظفرپور کے کئی خاندانوں کے لیے ایک یادگار موقع بن گیا، جب شہر کے مختلف ہسپتالوں میں 55 بچوں نے جنم لیا۔ ان ننھے مہمانوں کی آمد نے ہسپتالوں کے ماحول کو جشن میں بدل دیا، جہاں والدین اور رشتہ داروں نے اپنے نومولود بچوں میں رادھا اور کرشن کا عکس دیکھا۔
4 ستمبر 2026 کو شام 6:39 بجے شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، شہر کے ہسپتالوں میں بچوں کی پیدائش کا یہ سلسلہ جنم اشٹمی کے دن سے شروع ہوا اور اگلے دن دوپہر تک جاری رہا۔ ان پیدائشوں میں لڑکے اور لڑکیوں کی تعداد تقریباً برابر رہی، جس نے کئی گھرانوں میں خوشیوں کی لہر دوڑا دی۔
مختلف ہسپتالوں میں پیدائشوں کی تفصیلات
- کیجریوال میٹرنٹی ہسپتال: یہاں رات 12 بجے سے جمعہ دوپہر تک 10 بچوں نے جنم لیا، جن میں پانچ لڑکے اور پانچ لڑکیاں شامل تھیں۔ ہسپتال کے مینیجر رنجن کمار کے مطابق، تمام پیدائشیں معمول کے مطابق ہوئیں۔
- ایک بڑے نجی ہسپتال: اس ہسپتال میں جنم اشٹمی کے دن 15 بچے پیدا ہوئے، جن میں آٹھ لڑکے اور سات لڑکیاں تھیں۔ ان میں سے چھ بچوں کی پیدائش سیزیرین کے ذریعے ہوئی۔
- صدر ہسپتال: صدر ہسپتال میں 10 بچوں نے آنکھ کھولی، جن میں آٹھ لڑکے اور دو لڑکیاں تھیں۔
- ایس کے ایم سی ایچ: شمالی بہار کے اس بڑے ہسپتال میں سب سے زیادہ 20 بچوں کی پیدائش ہوئی، جن میں 13 لڑکے اور سات لڑکیاں شامل تھیں۔
ڈاکٹروں کی رائے اور خاندانی ترجیحات
کیجریوال ہسپتال کے ڈاکٹر امریندر کرشنا نے وضاحت کی کہ بچے کی پیدائش کا وقت بنیادی طور پر ایک قدرتی عمل ہے۔ تاہم، کچھ خاندان خاص تاریخوں یا مبارک دنوں کو ترجیح دیتے ہیں اور طبی مشورے سے ڈیلیوری کی تاریخ طے کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ڈاکٹر کرشنا نے بتایا کہ اگر طبی حالات سازگار ہوں تو جنم اشٹمی جیسے خاص موقع پر سیزیرین ڈیلیوری کی تاریخ مقرر کی جا سکتی ہے، لیکن عام پیدائش کا وقت قدرتی عمل کے مطابق ہی ہوتا ہے۔
خاندانوں میں جشن کا سماں
نومولود بچوں کے خاندانوں میں خوشی کا سماں تھا۔ کئی والدین نے اپنے بچوں کو کرشن اور رادھا کی طرح سجایا اور ان کے نام بھی بھگوان کرشن یا رادھا سے منسوب کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک نومولود کے دادا، نریندر کمار نے اسے بھگوان کرشن کی آشیرواد قرار دیا، جبکہ نانی مینا دیوی نے اپنے پوتے کی آمد کو دوہری خوشی کا باعث بتایا۔
خاندانوں نے مٹھائیاں بانٹیں، بھجن کیرتن کیے اور مندروں میں پرساد چڑھانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ ہسپتالوں کا ماحول بچوں کی کلکاریوں اور اہل خانہ کی خوشیوں سے گونجتا رہا، جہاں ہسپتال کا عملہ بھی اس جشن میں شریک ہوا۔ اس سال جنم اشٹمی صرف ایک مذہبی تہوار نہیں بلکہ کئی خاندانوں کے لیے نئے زندگی کے آغاز کا ایک یادگار جشن بن گئی۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
