بیتیا راج کی زمین: 400 خاندانوں کو بے دخلی کا نوٹس، بگہا میں عوامی غم و غصہ
بگہا میں بے دخلی کے نوٹس سے ہلچل
مغربی چمپارن کے بگہا-ایک انچل میں انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹس نے سیکڑوں خاندانوں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ بیتیا راج کی زمین پر برسوں سے آباد تقریباً 400 لوگوں کو اچانک زمین خالی کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جس کے بعد علاقے میں شدید بے چینی اور خوف کا ماحول پایا جا رہا ہے۔
برسوں کا بسیرا اور اچانک بے دخلی کا خطرہ
مجھوا گاؤں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ اور ان کے آباؤ اجداد دہائیوں سے اس زمین پر رہائش پذیر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ان کا واحد ٹھکانہ ہے اور اب اچانک انتظامیہ کی جانب سے انہیں بے گھر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہفتے کے روز، نوٹس ملنے کے بعد بڑی تعداد میں دیہاتیوں نے انچل دفتر کا رخ کیا اور اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔
عوامی مطالبہ اور انتظامیہ کا موقف
متاثرین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کو کارروائی سے قبل انسانی پہلوؤں پر غور کرنا چاہیے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ نوٹس کو فوری طور پر واپس لیا جائے یا پھر ان کے لیے متبادل رہائش کا انتظام کیا جائے۔ احتجاج کرنے والوں میں دھرو پرساد کیشری، ستیندر پرساد، آلوک جیسوال، رتن یادو اور دیگر شامل تھے۔
دوسری جانب، انچل افسر نرمدا شریواستو نے واضح کیا ہے کہ یہ کارروائی محکمانہ ہدایات کے تحت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بیتیا راج کی زمینوں سے تجاوزات ہٹانے کے لیے یہ نوٹس جاری کیے گئے ہیں اور لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ زمین سے متعلق اپنے کاغذات پیش کریں۔
آگے کیا ہوگا؟
انچل دفتر میں جمع ہونے والے لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی بات کو ہمدردی کے ساتھ سنا جائے۔ فی الحال، انچل افسر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ دیہاتیوں کے مطالبات کو اعلیٰ حکام تک پہنچایا جائے گا اور محکمہ کی ہدایات کے مطابق ہی اگلا قدم اٹھایا جائے گا۔ فی الحال، یہ معاملہ پورے علاقے میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے اور لوگ اپنی زمین بچانے کے لیے متحد نظر آ رہے ہیں۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔