مقامی خبریں

بہار میں جرائم پیشہ عناصر پر گھیرا تنگ: 1434 مجرموں کی جائیداد ضبط کرنے کی تیاری، مظفرپور سرفہرست

بہار پولیس کا بڑا ایکشن: جرائم سے کمائی گئی دولت پر ہوگا قبضہ

بہار پولیس ہیڈکوارٹر نے ریاست بھر میں سرگرم مجرموں، بالو، شراب اور زمین مافیا کے خلاف ایک سخت مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس کی جانب سے 1434 ایسے افراد کی فہرست تیار کی گئی ہے جنہوں نے جرائم کے ذریعے غیر قانونی اثاثے بنائے ہیں۔ ان تمام افراد کی جائیدادیں ضبط کرنے کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

مظفرپور اور پٹنہ میں سب سے زیادہ کارروائی

پولیس ہیڈکوارٹر کے اعداد و شمار کے مطابق، ریاست کے تمام اضلاع سے موصول ہونے والی رپورٹس کی بنیاد پر مجرموں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس فہرست میں مظفرپور 109 مجرموں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے، جبکہ پٹنہ 105 مجرموں کے ساتھ دوسرے اور گیا 90 مجرموں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ یہ کارروائی بی این ایس ایس کی دفعہ 107 کے تحت عمل میں لائی جا رہی ہے۔

اب تک کی پیش رفت

پولیس حکام کے مطابق، نشاندہی کیے گئے 1434 مجرموں میں سے 428 کے خلاف جائیداد ضبطی کی باقاعدہ تجاویز عدالت میں پیش کی جا چکی ہیں۔ اب تک 103 معاملات میں نوٹس جاری کیے گئے ہیں، جبکہ عدالت نے چار مجرموں کی جائیداد ضبط کرنے کا حتمی حکم بھی جاری کر دیا ہے۔ ان چاروں میں سے دو کا تعلق مظفرپور سے ہے، جبکہ ایک ایک کا تعلق سارن اور ویشالی سے ہے۔

جرائم کے خلاف دیگر اقدامات

پولیس نے صرف جائیداد ضبطی ہی نہیں بلکہ دیگر محاذوں پر بھی سخت رویہ اپنایا ہے:

  • جنوری سے 15 مئی تک سنگین جرائم میں ملوث 33,126 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔
  • قتل، ڈکیتی، لوٹ مار اور ایس سی-ایس ٹی ایکٹ کے تحت بڑی تعداد میں گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔
  • 676 مجرموں پر کرائم کنٹرول ایکٹ (CCA) لگانے کی تجویز بھیجی گئی ہے۔
  • رواں سال کے ابتدائی چار مہینوں میں عدالتوں کے ذریعے 70 ہزار سے زائد افراد کو سزا دلائی گئی ہے، جن میں دو کو سزائے موت اور 453 کو عمر قید شامل ہے۔

پولیس کا ماننا ہے کہ مجرموں کی معاشی کمر توڑنے سے ہی ریاست میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس مہم میں مزید تیزی لائے جانے کا امکان ہے۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button