بہار بی ایڈ داخلہ امتحان: 7 جون کو ہوگی بڑی آزمائش، مظفرپور میں 26 مراکز پر ہوگی سخت نگرانی
بہار بی ایڈ مشترکہ داخلہ امتحان کی تیاریاں عروج پر
ریاست بھر کے بی ایڈ کالجوں میں داخلے کے لیے منعقد ہونے والا مشترکہ داخلہ امتحان (CET-BEd 2026) اب اپنے حتمی مراحل میں ہے۔ 7 جون کو ہونے والے اس اہم امتحان کے لیے انتظامیہ نے کمر کس لی ہے، جس کے تحت پورے بہار میں کل 180 امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔
مظفرپور اور پٹنہ میں سب سے زیادہ مراکز
امتحانی مراکز کی تقسیم کے مطابق، دارالحکومت پٹنہ سب سے زیادہ 40 مراکز کے ساتھ سرفہرست ہے، جہاں 35 ہزار سے زائد امیدوار اپنی قسمت آزمائیں گے۔ اس کے بعد مظفرپور کا نمبر آتا ہے، جہاں 26 مراکز پر 17 ہزار سے زیادہ طلباء امتحان میں شامل ہوں گے۔ دیگر شہروں میں گیا میں 24، بھاگلپور میں 13، اور چھپرا و مونگیر میں 10-10 مراکز بنائے گئے ہیں۔
امیدواروں کی تعداد اور مقابلہ
اس سال بی ایڈ داخلہ امتحان کے لیے ایک لاکھ 23 ہزار 237 امیدواروں نے آن لائن درخواست دی ہے۔ ان میں خواتین امیدواروں کی تعداد 77 ہزار 263 ہے، جبکہ 45 ہزار 970 مرد اور 4 تھرڈ جینڈر امیدوار بھی شامل ہیں۔ ریاست کی 14 یونیورسٹیوں میں کل 37 ہزار 250 سیٹیں دستیاب ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ہر ایک سیٹ کے لیے تین سے زیادہ امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ ہوگا۔
ایڈمٹ کارڈ اور انتظامی حکمت عملی
امتحان کے انعقاد کو شفاف اور نقل سے پاک بنانے کے لیے تمام یونیورسٹیوں کے نوڈل افسران کو خصوصی ہدایات دی گئی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی مدد سے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جائیں گے۔ امیدوار یکم جون سے اپنے ایڈمٹ کارڈ ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کر سکیں گے۔ اس سے قبل، فارم میں نام کی درستگی کا موقع بھی دیا گیا تھا، جس کا فائدہ بڑی تعداد میں طلباء نے اٹھایا ہے۔
یونیورسٹی وار سیٹوں کی صورتحال
سب سے زیادہ سیٹیں پاٹلی پترا یونیورسٹی (6400) میں ہیں، جبکہ بی آر اے بہار یونیورسٹی مظفرپور 6200 سیٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ امیدواروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے مراکز کی تفصیلات ایڈمٹ کارڈ جاری ہونے کے بعد غور سے دیکھ لیں اور وقت پر امتحان گاہ پہنچنے کی تیاری کریں۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
