مقامی خبریں

اورائی میں سنار کو گولی مار کر دو لاکھ کے زیور لوٹ لیے گئے، علاقے میں خوف و ہراس

مظفرپور کے اورائی علاقے میں ہفتے کی دیر شام ایک سنسنی خیز واردات میں نامعلوم بائیک سوار مسلح افراد نے ایک سنار کو گولی مار کر تقریباً دو لاکھ روپے مالیت کے زیورات لوٹ لیے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سنار اپنی دکان بند کر کے گھر واپس جا رہا تھا۔ اس واردات نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے اور مقامی تاجروں میں پولیس کی کارکردگی پر شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق، کٹرا تھانہ علاقے کے شیو داس پور کے رہائشی سنجے ساہ کے بیٹے ببلو کمار اورائی بازار میں ‘سنجے جیولرز’ کے نام سے زیورات کی دکان چلاتے ہیں۔ روزانہ کی طرح ہفتے کی شام بھی وہ اپنی دکان بند کر کے زیورات سے بھرا بیگ لے کر موٹر سائیکل پر اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں پہلے سے گھات لگائے بائیک سوار بدمعاشوں نے انہیں روک لیا اور ہتھیار کے زور پر بیگ چھیننے کی کوشش کی۔

جب ببلو کمار نے لوٹ مار کی مزاحمت کی تو بدمعاشوں نے ان پر گولی چلا دی۔ گولی لگنے سے وہ شدید زخمی ہو کر سڑک پر گر پڑے۔ اس کے بعد بدمعاش تقریباً دو لاکھ روپے مالیت کے زیورات سے بھرا بیگ لے کر موقع سے فرار ہو گئے۔ فائرنگ کی آواز سن کر آس پاس کے لوگ جائے وقوعہ پر پہنچے اور زخمی سنار کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا۔ ابتدائی طبی امداد کے بعد ان کی سنگین حالت کے پیش نظر بہتر علاج کے لیے انہیں ریفر کر دیا گیا ہے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی اورائی تھانہ پولیس موقع پر پہنچی اور جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔ پولیس نے آس پاس کے لوگوں سے پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔ بدمعاشوں کی گرفتاری کے لیے پورے علاقے میں ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق، واردات میں ملوث بدمعاشوں کی شناخت کے لیے راستے میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کھنگالی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی تکنیکی شواہد اور مقامی مخبروں کی مدد سے بدمعاشوں کی تلاش تیز کر دی گئی ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ جلد ہی اس واردات میں شامل بدمعاشوں کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ تاہم، اس واقعے نے علاقے کی امن و امان کی صورتحال پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button