NEET اور CBSE تنازعات: پارلیمانی کمیٹی کا NTA اور بورڈ سے سخت جواب طلبی
امتحانات میں شفافیت پر سوالات: پارلیمانی کمیٹی کا ایکشن
ملک کے تعلیمی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے پارلیمنٹ کی ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) اور سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (CBSE) کے خلاف سخت موقف اختیار کر لیا ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ دگ وجے سنگھ کی زیر صدارت قائم یہ کمیٹی تعلیمی اداروں کی کارکردگی اور امتحانی عمل میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں کی گہرائی سے جانچ کر رہی ہے۔
NTA سے کڑے سوالات
پارلیمانی کمیٹی نے NTA سے تحریری طور پر جواب طلب کیا ہے کہ ان کے نزدیک ‘پیپر لیک’ کی اصل تعریف کیا ہے اور 2018 کے بعد سے اب تک کتنے امتحانات اس طرح کے واقعات کی زد میں آئے ہیں۔ کمیٹی نے یہ بھی جاننا چاہا ہے کہ NEET-UG 2024 کے معاملے میں سی بی آئی کی تحقیقات کے علاوہ کیا ایجنسی نے کوئی اندرونی تفتیش کی تھی یا نہیں۔ اس کے علاوہ، گزشتہ تین برسوں میں ہونے والی نئی بھرتیاں، عملے کی تعداد اور وزارت تعلیم کو بھیجی گئی سالانہ رپورٹس کا مکمل ریکارڈ بھی طلب کیا گیا ہے۔ کمیٹی نے راധാ کرشنن کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کی تفصیلی رپورٹ بھی مانگی ہے۔
CBSE کی ٹینڈرنگ پر شکوک
دوسری جانب CBSE کے لیے بھی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ کمیٹی نے OSM سسٹم اور اس سے جڑے ٹینڈرنگ عمل پر کئی اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ خاص طور پر ‘کوایمپٹ ایڈو ٹیک’ (COEMPT EduTeck) کو ٹینڈر دینے کے عمل پر سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ کیا اس کمپنی کے پس منظر کی جانچ کی گئی تھی؟ کمیٹی نے یہ بھی پوچھا ہے کہ کیا بورڈ کو معلوم تھا کہ اس کمپنی کے ڈائریکٹرز کا تعلق ماضی میں متنازعہ رہنے والی ‘گلوب ایرینا ٹیکنالوجیز’ سے رہا ہے۔
اصلاحات کا مطالبہ
کمیٹی نے ٹینڈر کی شرائط میں اچانک تبدیلیوں، جیسے کہ ٹرن اوور کی حد 50 کروڑ روپے مقرر کرنے اور بلیک لسٹنگ کے قوانین میں نرمی پر بھی برہمی کا اظہار کیا ہے۔ اس کے علاوہ، اسکیننگ کے معیار، ڈیٹا سینٹر کی شرائط اور تکنیکی تقاضوں میں تبدیلیوں پر بھی وضاحت مانگی گئی ہے۔ کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ CBSE کو فروری، مئی اور اگست 2025 کے RFP دستاویزات اور OSM ڈرائی رن رپورٹ فوری طور پر پیش کرنی ہوگی۔ یہ پیش رفت طلباء اور والدین کے لیے ایک اہم پیغام ہے کہ تعلیمی نظام میں شفافیت کے لیے اب پارلیمانی سطح پر نگرانی سخت کر دی گئی ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
