مقامی خبریں

مظفرپور: اسکول کی چھت پر کرنٹ لگنے سے طالبات جھلس گئیں، ایک کی حالت تشویشناک

مظفرپور کے اہیاپور تھانہ علاقے میں واقع شاہبازپور کے ایک اعلیٰ ثانوی اسکول میں جمعہ کی صبح ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں اسکول کی چھت پر کرنٹ لگنے سے تین طالبات زخمی ہو گئیں۔ ان میں سے ایک طالبہ کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ واقعہ کے بعد تمام زخمی طالبات کو فوری طور پر ایس کے ایم سی ایچ میں داخل کرایا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق، اسکول کی عمارت کے اوپر سے 11 ہزار وولٹ کی ہائی ٹینشن بجلی کی تار گزر رہی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ طالبات اسی تار کے رابطے میں آنے یا اس کے قریب بجلی کے کرنٹ کی وجہ سے جھلس گئیں۔ تاہم، کرنٹ لگنے کی اصل وجہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکی ہے۔

زخمی طالبات میں سے ایک، نیہا نے بتایا کہ وہ اپنی دیگر سہیلیوں کے ساتھ اسکول کی چھت پر گئی تھیں۔ وہاں دیوار پر ہاتھ رکھتے ہی اسے زوردار کرنٹ لگا اور وہ نیچے گر گئی۔ اس کے ساتھ موجود دوسری طالبہ بھی چیخنے لگی۔ اس کے بعد شروتی نامی ایک طالبہ نے انہیں نیچے لانے میں مدد کی۔ اس واقعہ کے بعد اسکول کے احاطے میں افراتفری کا ماحول پیدا ہو گیا۔

عینی شاہدین نے اسکول انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ عینی شاہد ویبھو کمار نے بتایا کہ کرنٹ لگنے سے ایک طالبہ کے ہاتھ پاؤں بری طرح جھلس گئے تھے اور اس کے جسم میں شدید جھٹکے لگ رہے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ زخمی طالبات کو اسپتال لے جانے کے لیے اسکول کا گیٹ بروقت نہیں کھولا گیا، جس کی وجہ سے قیمتی وقت ضائع ہوا۔ بعد میں جب گیٹ کھلا تو اسکول کی گاڑی سے اسپتال لے جانے کی اجازت نہیں ملی۔ مجبوراً، ایک آٹو روک کر طالبات کو ایس کے ایم سی ایچ پہنچایا گیا۔ ویبھو کے مطابق، اسکول کے اوپر سے گزرنے والی 11 ہزار وولٹ کی تار ایک بڑا خطرہ ہے۔

ایک اور زخمی طالبہ نے بتایا کہ وہ چھت پر گئی تھیں اور دیوار پر ہاتھ رکھتے ہی انہیں کرنٹ کا جھٹکا لگا اور وہ گر گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ دیویانی کو بھی جھٹکا لگا اور اس کے بعد شروتی نامی لڑکی نے انہیں نیچے لانے میں مدد کی۔

اسکول کے ایک استاد نے بتایا کہ یہ حادثہ ٹفن کے وقت پیش آیا جب طالبات دوپہر کا کھانا کھا رہی تھیں۔ انہوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ اسکول کے اوپر سے 11 ہزار وولٹ کی بجلی کی تار گزرتی ہے۔ تاہم، استاد نے صرف دو طالبات کے زخمی ہونے کی بات کہی اور اس سے زیادہ معلومات دینے سے انکار کر دیا۔

فی الحال، کرنٹ لگنے کی وجوہات اور اس واقعہ کے دوران اسکول انتظامیہ کے کردار کے حوالے سے صورتحال غیر واضح ہے۔ زخمی طالبات کی تعداد کے بارے میں بھی عینی شاہدین اور اسکول کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے۔ اس واقعہ نے اسکولوں میں حفاظتی انتظامات اور بجلی کی تاروں کی مناسب دیکھ بھال پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button