مقامی خبریں

مظفرپور میں کسانوں کو ناقص زرعی دوا فروخت کرنے پر کارروائی، حیدرآباد لیب کی رپورٹ نے پول کھول دیا

مظفرپور: ضلع مظفرپور میں کسانوں کو غیر معیاری اور ناقص حیاتیاتی کیڑے مار ادویات فروخت کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد محکمہ زراعت نے سخت کارروائی کی تیاری کر لی ہے۔ حیدرآباد میں واقع نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پلانٹ ہیلتھ مینجمنٹ کی تحقیقاتی رپورٹ نے اس فراڈ کا پردہ فاش کیا ہے، جس میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ فروخت کی جانے والی دوا میں زندہ بیکٹیریا کی تعداد مقررہ معیار سے کہیں کم تھی۔

تحقیقاتی رپورٹ اور کارروائی کی تیاری

محکمہ زراعت کے مطابق، ‘سیوڈوموناس فلوروسینس 2 فیصد’ نامی حیاتیاتی کیڑے مار دوا کا نمونہ غیر معیاری پایا گیا ہے۔ یہ دوا فصلوں کو مختلف بیماریوں سے بچانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے اور اسے کیمیائی ادویات کا ایک محفوظ متبادل سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، حیدرآباد کی لیب کی رپورٹ میں اس دوا میں موجود فعال بیکٹیریا (CFU Count) کی تعداد انتہائی کم پائی گئی، جس کا مطلب ہے کہ یہ دوا کھیتوں میں چھڑکاؤ کے بعد بھی مؤثر ثابت نہیں ہو سکتی۔

رپورٹ موصول ہونے کے بعد، محکمہ زراعت نے متعلقہ دکاندار اور مینوفیکچرنگ کمپنی کے خلاف قانونی کارروائی تیز کر دی ہے۔ ضلع زرعی افسر بھارت بھوشن نے اس سلسلے میں مقدمہ چلانے کی منظوری مانگی ہے۔

کون سی کمپنیاں ملوث؟

اس معاملے میں اہیاپور میں واقع ‘جے ماں امبے گرین ایجنسی’ اور پٹنہ کی مینوفیکچرنگ کمپنی ‘کرشی وکاس سہکاری سمیتی لمیٹڈ’ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔ ‘جے ماں امبے گرین ایجنسی’ سے 24 جولائی 2024 کو ‘سیوڈوموناس فلوروسینس’ کا نمونہ لیا گیا تھا، جسے جانچ کے لیے حیدرآباد کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پلانٹ ہیلتھ مینجمنٹ بھیجا گیا تھا۔

کسانوں کو دوہرا نقصان

‘سیوڈوموناس فلوروسینس 2 فیصد’ ایک اہم حیاتیاتی فنگس کش اور نشوونما بڑھانے والی دوا ہے۔ یہ دھان، گندم، سبزیوں اور دالوں کی فصلوں میں جڑوں کے سڑنے اور جھلساؤ جیسی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ کسان اسے کیمیائی ادویات کے محفوظ متبادل کے طور پر بڑے پیمانے پر استعمال کرتے ہیں۔

حیاتیاتی کیڑے مار ادویات میں مؤثر بیکٹیریا کی مقررہ موجودگی انتہائی ضروری ہوتی ہے۔ اگر بیکٹیریا کی تعداد معیار سے کم ہو تو کھیت میں چھڑکاؤ کے بعد بھی بیماریوں پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔ اس سے کسانوں کو نہ صرف دوا کی لاگت کا نقصان ہوتا ہے بلکہ فصل کی پیداوار بھی کم ہو جاتی ہے، جس سے انہیں دوہرا مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پلانٹ ہیلتھ مینجمنٹ، حیدرآباد، پودوں کے تحفظ سے متعلق ملک کا ایک اہم ادارہ ہے جہاں زرعی پیداوار، مٹی، پودوں کی بیماریوں اور کیڑے مار ادویات کی سائنسی جانچ کی جاتی ہے۔ اسی لیب کی سرکاری رپورٹ کی بنیاد پر مظفرپور میں قصوروار ایجنسی اور کمپنی کے خلاف شکنجہ کسا گیا ہے۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button