مقامی خبریں

مظفرپور کے مندروں میں عقیدت مندوں کا ہجوم: ‘جے ماتا دی’ کے نعروں سے گونج اٹھی فضا

مظفرپور میں نوراتری کے آغاز کے ساتھ ہی شہر کے مندروں میں عقیدت مندوں کا غیر معمولی ہجوم دیکھنے میں آیا۔ صبح سویرے سے ہی مندروں کے باہر لمبی قطاریں لگ گئیں، جہاں ہر عمر کے افراد، خاص طور پر خواتین اور بچے، ماتا رانی کی پوجا اور درشن کے لیے بے تاب نظر آئے۔ شہر کی فضا ‘جے ماتا دی’ کے پرجوش نعروں سے گونج اٹھی، جس نے نوراتری کے پہلے دن کو ایک روحانی اور پرمسرت ماحول عطا کیا۔

شہر کے معروف مندروں، جیسے کہ غریب استھان مندر، چنمن دیوی مندر، اور کالی باڑی مندر میں عقیدت مندوں کی بڑی تعداد نے حاضری دی۔ ان مندروں کو خوبصورتی سے سجایا گیا تھا، اور روشنیوں کا انتظام بھی دیدنی تھا۔ پوجا کی خصوصی رسومات ادا کی گئیں، جس میں پھول، پھل، مٹھائیاں اور دیگر نذرانے پیش کیے گئے۔ پنڈتوں نے ویدک منتروں کا ورد کیا، اور بھجن کیرتن کا اہتمام بھی کیا گیا، جس نے ماحول کو مزید روحانی بنا دیا۔

نوراتری کا تہوار ہندو مذہب میں دیوی درگا کی نو شکلوں کی پوجا کے لیے وقف ہے۔ یہ تہوار نو راتوں اور دس دنوں تک منایا جاتا ہے، جس میں ہر دن دیوی کی ایک خاص شکل کی پوجا کی جاتی ہے۔ عقیدت مند اس دوران روزہ رکھتے ہیں، خصوصی پوجا کرتے ہیں، اور دیوی سے اپنی مرادیں مانگتے ہیں۔ یہ تہوار برائی پر اچھائی کی فتح کی علامت ہے اور اسے پورے ہندوستان میں بڑے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔

مظفرپور میں نوراتری کے پہلے دن کی یہ رونق اس بات کا ثبوت ہے کہ شہر کے لوگ اپنے مذہبی تہواروں کو کتنی عقیدت اور جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ مندروں میں سیکیورٹی کے بھی خصوصی انتظامات کیے گئے تھے تاکہ عقیدت مندوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ آنے والے دنوں میں بھی مندروں میں اسی طرح کی بھیڑ متوقع ہے، کیونکہ نوراتری کا تہوار اپنے عروج پر پہنچے گا۔ یہ تہوار نہ صرف مذہبی اہمیت کا حامل ہے بلکہ یہ سماجی ہم آہنگی اور بھائی چارے کو بھی فروغ دیتا ہے۔

شہر بھر میں نوراتری کے موقع پر مختلف ثقافتی پروگراموں اور میلوں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے، جو اس تہوار کی رونق کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ عقیدت مندوں کا یہ جوش و خروش اور عقیدت مظفرپور کی مذہبی اور ثقافتی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button