مظفرپور میں ‘آپریشن مسکان’ کی کامیابی: 120 گمشدہ موبائل فونز برآمد، مالکان کے چہروں پر مسکراہٹیں لوٹ آئیں
مظفرپور پولیس کے خصوصی آپریشن ‘مسکان’ نے ایک بار پھر درجنوں شہریوں کو خوشی کا موقع فراہم کیا ہے۔ ضلع پولیس نے مختلف تھانوں کے علاقوں سے چوری شدہ اور گمشدہ 120 موبائل فونز کامیابی سے برآمد کر لیے ہیں، جن کی مجموعی بازاری قیمت تقریباً 39 لاکھ روپے ہے۔ ان موبائل فونز کی واپسی سے ان کے مالکان میں زبردست جوش و خروش پایا جاتا ہے۔
جمعہ کے روز، ایس ایس پی کانتیش کمار مشرا نے میرین ڈرائیو پر واقع پولیس دفتر میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران یہ تمام برآمد شدہ موبائل فونز ان کے حقیقی مالکان کے حوالے کیے۔ اپنے قیمتی موبائل فونز کو طویل عرصے بعد واپس پا کر لوگوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے۔ اس قابلِ ستائش کارنامے پر تمام مستفیدین نے ضلع پولیس اور انتظامیہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ہے۔
‘آپریشن مسکان’ کی سال 2026 میں شاندار کارکردگی
ضلع پولیس کی جانب سے چلائے جانے والے اس کامیاب آپریشن کے تحت سال 2026 میں اب تک کل 7 مراحل میں تقریباً 2 کروڑ 55 لاکھ روپے مالیت کے 865 موبائل فونز برآمد کیے جا چکے ہیں۔ پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق، جنوری میں 95، مارچ میں 201، اپریل میں 117، جون میں 106، جولائی میں 120، اگست میں 106، اور اب ستمبر کے مہینے میں 39 لاکھ روپے مالیت کے 120 موبائل فونز برآمد کیے گئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ ‘آپریشن مسکان’ مظفرپور کے شہریوں کے لیے کتنا مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔
گمشدہ اشیاء کی اطلاع کیسے دیں؟
ضلع پولیس نے عام شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کا موبائل، لیپ ٹاپ یا آئی پیڈ گم ہو جاتا ہے تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ شہری پولیس کی جانب سے جاری کردہ کیو آر کوڈ کو اسکین کر کے یا گوگل فارم بھر کر اپنی معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، متاثرہ افراد پولیس کنٹرول روم کے واٹس ایپ نمبر 9431896700 پر بھی اپنی شکایت بھیج سکتے ہیں۔ یہ اقدامات شہریوں کو اپنی گمشدہ اشیاء کی بازیابی میں مدد فراہم کرنے کے لیے کیے گئے ہیں اور پولیس کی جانب سے عوام دوست رویے کی عکاسی کرتے ہیں۔
مظفرپور پولیس کا یہ اقدام نہ صرف شہریوں کے اعتماد کو بحال کر رہا ہے بلکہ جرائم کی روک تھام میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
