مظفرپور کچہری میں جعلی عدالتی اسٹامپ کی فروخت، چھ دکانوں سے مشکوک اسٹامپ ضبط
مظفرپور کچہری میں جعلی عدالتی اسٹامپ کی فروخت کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے چھ دکانوں سے بڑی تعداد میں مشکوک اسٹامپ پیپر ضبط کر لیے ہیں۔ یہ کارروائی ضلع بار ایسوسی ایشن کے صدر کی جانب سے جعلی اسٹامپ پکڑے جانے کے بعد عمل میں آئی۔
ضلع مجسٹریٹ کی ہدایت پر بدھ کے روز ایس ڈی او مشرقی، ایس ڈی پی او ٹاؤن ون اور ایگزیکٹو مجسٹریٹ مشرقی راجو کمار کی قیادت میں ایک ٹیم نے کچہری احاطے میں اچانک چھاپہ مارا۔ ٹیم نے مختلف دکانوں اور گمٹیوں کی تلاشی لی اور وہاں سے بھاری مقدار میں مشکوک عدالتی اسٹامپ برآمد کیے۔ تمام ضبط شدہ اسٹامپ کو جانچ کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
پس منظر اور کارروائی
ضلع بار ایسوسی ایشن کے صدر رام کرشن ٹھاکر عرف رام بابو ٹھاکر نے بتایا کہ کچہری احاطے میں مجاز اسٹامپ کاؤنٹر کئی دنوں سے ‘لنک فیل’ کا بورڈ لگا کر بند تھا۔ الزام ہے کہ اسی صورتحال کا فائدہ اٹھا کر کچھ افراد غیر قانونی طور پر اسٹامپ فروخت کر رہے تھے۔ اس انکشاف کے بعد انتظامیہ نے فوری کارروائی کا فیصلہ کیا۔
چھاپے کے بعد مجاز کاؤنٹر کو دوبارہ فعال کر دیا گیا اور فرینکنگ مشین کے ذریعے لوگوں کو قطار میں کھڑا کر کے قانونی ٹکٹ اور اسٹامپ فراہم کیے گئے۔ اس معاملے کی سنگینی کے پیش نظر پرنسپل ڈسٹرکٹ جج نے فرینکنگ مشین کے آپریٹر اور دیگر وینڈرز کو طلب کیا۔
عدالتی ہدایات اور آئندہ اقدامات
ضلع بار ایسوسی ایشن کے خزانچی سدھیر کمار اوجھا کے مطابق، پرنسپل ڈسٹرکٹ جج نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ کچہری احاطے میں صرف رجسٹرڈ اور لائسنس یافتہ وینڈرز ہی ٹکٹ اور اسٹامپ فروخت کر سکیں گے۔ یہ قدم جعلی اسٹامپ کی فروخت کو روکنے اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
فی الحال، پولیس ضبط شدہ مشکوک اسٹامپ کی جانچ کر رہی ہے اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ جعلی اسٹامپ کہاں سے لائے گئے اور اس غیر قانونی دھندے میں کون کون لوگ ملوث ہیں۔ انتظامیہ اب اس پورے نیٹ ورک کی گہرائی سے چھان بین میں مصروف ہے۔ اس کارروائی کا مقصد کچہری میں قانونی دستاویزات کی خرید و فروخت میں اعتماد بحال کرنا ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
