ڈھولی بازار میں نگر پنچایت دفتر برقرار رکھنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا
مظفرپور کے مرول علاقے میں نگر پنچایت دفتر کو ڈھولی بازار سے منتقل کرنے کے خلاف عوامی احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا۔ بدھ کے روز مرول کے پنچایت سرکار بھون میں مقامی باشندوں نے دھرنا دیا اور مطالبہ کیا کہ نگر پنچایت دفتر کو اس کی موجودہ جگہ، ڈھولی بازار میں ہی برقرار رکھا جائے۔ یہ احتجاج اس فیصلے کے خلاف ہے جس میں دفتر کو کسی اور مقام پر منتقل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ڈھولی بازار میں دفتر کی موجودگی ان کے لیے زیادہ آسان اور قابل رسائی ہے۔ اس مقام کی مرکزی حیثیت اور آسانی سے پہنچنے کی وجہ سے، یہ دفتر شہریوں کو بہتر خدمات فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ دفتر کی منتقلی سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، خاص طور پر ان لوگوں کو جو دور دراز علاقوں سے آتے ہیں۔
احتجاجی مظاہرین نے زور دیا کہ نگر پنچایت دفتر کو ڈھولی بازار میں ہی رہنے دیا جائے تاکہ عوام کو سرکاری خدمات حاصل کرنے میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ فیصلہ مقامی آبادی کی مشاورت کے بغیر لیا گیا ہے، جو کہ جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پر غور نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔
دھرنے میں شامل افراد نے حکام سے اپیل کی کہ وہ عوام کی آواز سنیں اور اس فیصلے پر نظر ثانی کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ نگر پنچایت کا مقصد عوام کی خدمت کرنا ہے، اور دفتر کی منتقلی اس مقصد کے منافی ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ڈھولی بازار میں دفتر کی موجودگی تاریخی اور روایتی اہمیت رکھتی ہے، اور اسے تبدیل کرنا مقامی ثقافت اور سہولیات کے لیے نقصان دہ ہوگا۔
احتجاج میں شامل اہم شخصیات میں منوج ساہ، چندن پرساد، کندن پودار، اور ونیت کمار شامل تھے۔ ان رہنماؤں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس جدوجہد میں ان کا ساتھ دیں تاکہ ان کے مطالبات کو پورا کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس مسئلے کو اعلیٰ حکام تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔
مقامی باشندوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ اگر دفتر کو منتقل کیا گیا تو انہیں روزمرہ کے کاموں کے لیے مزید سفر کرنا پڑے گا، جس سے وقت اور پیسے دونوں کا ضیاع ہوگا۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فیصلے کے سماجی اور اقتصادی اثرات کا جائزہ لیں اور عوام کے مفاد میں فیصلہ کریں۔ یہ احتجاج اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مقامی آبادی اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے کتنی پرعزم ہے۔
مرول کے عوام کی یہ آواز حکام تک پہنچنا ضروری ہے تاکہ ایک ایسا فیصلہ کیا جا سکے جو سب کے لیے قابل قبول ہو اور نگر پنچایت کے مقاصد کو پورا کرے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
